اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں سیاست دانوں کے نام پر مافیاز، پارٹیوں کی صورت میں گینگ اور جتھے سرگرم ہیں۔ باریاں لگی ہوئی ہیں، عوام کی کسی کوپروا نہیں۔ سود خوروں سے توقع نہیں کہ وہ سودی نظام ختم کریں گے۔
سراج الحق نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی لڑائی ذاتی مفادات کے لیے ہے، دونوں اطراف پولیس اور سرکاری وسائل اپنے اقتدار کے دوام کے لیے استعمال کر رہی ہیں، دونوں سٹیٹس کو کا تسلسل ہیں۔ حکمران جماعتوں کے پاس بہتری کا کوئی ایجنڈا نہیں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ انھوں نے سالہاسال حکومت کی اور ملک کو اندھیروںمیں دھکیلا۔ غربت، بے روزگاری اور بدامنی کی وجہ حکمران ہیں، جن کے پاس دکھانے کو پرفارمنس نہیں بس جھوٹے وعدوںاور دعوئوں پر عوام کو بے وقوف بنانا ان کا مقصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی 80فیصد سے زائد آبادی کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں، بڑے شہر کچرے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو گئے جہاںسانس لینا دشوار ہے، جو حکمران گلیاں صاف نہیں کروا سکتے ان کی سوچ کیسے صاف ہو سکتی ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ ملک ساڑھے 62کھرب سے زائد کا مقروض ہے، روزانہ کی بنیادوں پر 23ارب روپے قرضہ لیا جا رہا ہے جس کا بڑا حصہ حکمرانوں کے پروٹوکول پر خرچ ہوتا ہے۔ حکمران قرض لے کر کرپشن کرتے ہیں اور بعد میں اس لوٹی ہوئی دولت سے بیرون ملک اثاثے بنائے جاتے ہیں۔
امیر جماعت کا کہنا تھا کہ احتساب کے نام پر سیاسی کھیل جا ری ہے، آئین کی شق 62،63پر ہی نہیں پورے آئین پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کا تصور تک نہیں، طاقتور سسٹم کو آنکھیں دکھاتا ہے اور غریب کی گردن دبوچ لی جاتی ہے۔ خاندانوں کی بادشاہت قائم ہے اور مافیاز راج کر رہے ہیں۔
