پولینڈ کے صدر آندریژ ڈوڈا نے کہا ہے کہ” روس کے یوکرین پر حملوں کو معمول کی چیز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ دھونس دھاندلی کے ساتھ سرحدوں کی وسعت پر مبنی کسی بھی سمجھوتے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی امن مذاکرات ہوتے ہیں تو وہ یوکرینی حکام کی رضامندی سے ہونے چاہئیں”۔
پولینڈ کے شہر لوڈز میں جاری یورپی سلامتی و تعاون تنظیم OSCE کے وزراء کونسل اجلاس کی افتتاحی نشست سے خطاب میں ڈوڈا نے کہا ہے کہ روس، یوکرین پر ظالمانہ حملے کر رہا ہے۔ یہ حملے، پولینڈ کی ٹرم چئیر مین شپ کے دورانیے کا، غالب موضوع بنے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ OSCE کے رکن ملک روس نے تمام اصول و قوانین کی نہایت بے رحمانہ خلاف ورزی کی ہے۔ روس ایک مجرم حکومت ہے اس کی پالیسیوں سے اتفاق اور بات پر اعتبار ممکن نہیں ہے”۔
یوکرین میں شہریوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ہلاک کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے ڈوڈا نے کہا ہے کہ ہم اس طرف سے لاپرواہی نہیں برتیں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "روس کے یوکرین پر حملوں کو معمول کی چیز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ دھونس دھاندلی کے ساتھ سرحدوں کی وسعت پر مبنی کسی بھی سمجھوتے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی امن مذاکرات ہوتے ہیں تو وہ یوکرینی حکام کی رضامندی سے ہونے چاہئیں”۔
ڈوڈا نے مولدووا کے یورپی یونین کے ساتھ اتصال کے معاملے میں بھی روس کے، داخلہ سلامتی کے لئے، خطرناک اقدامات کی طرف توجہ مبذول کروائی ا ور کہا ہے کہ "افسوسناک امر یہ ہے کہ OSCE کے سیاسی و فوجی امکانات ناکافی ہیں۔ اس تنظیم کی بنیاد خیر سگالی اور تعاون پر استوار ہے”۔
واضح رہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملے شروع کر دئیے تھے۔
