English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

‘صحافی کے سوال پر نوازشریف کا چہرہ غصے سےسرخ ہو گیا’

القمر

سینئر صحافی اور اینکر حامد میر نے کہا کہ  ایک بار  سینئر صحافی ضیاالدین کے سوال پر نواز شریف صاحب کا چہرہ غصے سےسرخ ہو گیا۔

اینکر حامد میر نے کہا وہ سینئر صحافی ضیاالدین کی سیاسی بصیرت سے بہت متاثر تھے۔ وہ ایسے صحافی تھے کہ انہوں نے کبھی کسی پارٹی کا ساتھ نہیں دیا بلکہ اپنے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے سب سے ہی سوال کرتے تھے جس کی وجہ سے تمام حکومتیں ان سے نالاں رہتی تھیں۔

حامد میر نے ماضی کا ایک قصہ سناتے ہوئے کہا کہ جنوری 1999 رمضان کا مہینہ تھا تب نواز شریف وزیراعظم تھے اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف تھے۔ آرمی چیف کی جانب سے افطار پر مدعو تھے لیکن ہمیں افطار  سے 2 گھنٹے قبل بلایا گیا۔ وہاں میرے علاوہ ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ انگلش اخبار کے ایڈیٹر ضیاالدین تھے۔ طارق واسطی تھے۔ایک اور بزرگ صحافی سعود ساحر بھی وہاں موجود تھے۔ آرمی چیف نے جنرل عزیز کو بلایا ہوا تھا۔ انہوں نے دیوار پر ایک نقشہ لگایاہوا تھا اور نہوں نے ہمیں بریفنگ دینی شروع کر دی۔ فلاں روڈ بند کریں تو فلاں پہاڑی پر قبضہ کر لیں، فلاں کریں تو فلاں تو ہم تین دنوں میں کشمیر آزاد کروا سکتے ہیں۔

حامد میر نے کہا کہ وہ تمام بریفنگ سے بہت پرجوش ہوئےاور سوال کیا کہ واقعی تین دن میں کشمیر آزاد کروا لیں گے تو  جنرل صاحب نے جواب دیا کہ بالکل، بس نواز شریف صاحب ہمیں اجازت دے دیں۔ ہم نے بس تین چار چوٹیوں پر قبضہ کرنا ہے اور  پانچ چھے سڑکیں بلاک کرنی ہیں تو کشمیر آزاد ہو جائے گا۔ میں نے جواب دیا کہ یہ تو بہت زبردست بات ہے۔ ضیاالدین میری ساتھ والی نشست پر ہی بیٹھے تھے انہوں نے میرے پاوں پر اپنا پاوں مارا کہ "چپ کر”۔ میں خاموش ہو گیا۔ وہ بریفنگ درحقیقت کارگل پلان کے بارے میں تھی۔ وہ یہ نہیں بتا رہے تھے کہ ہم یہ کر چکے ہیں بلکہ یہ بتا رہے تھے کہ اگر ہم یہ کر دیں تو ایسا ہو گا۔

حامد میر نے مزید کہا کہ چونکہ میں پسندیدگی کا اظہار کر چکا تھا تو مشرف صاحب بار بار میری طرف دیکھ کر پوچھ رہے تھے کہ پھر کیا خیال ہے آپ کا۔ میں نے پھر جواب دیا کہ بالکل ٹھیک ہے۔ ضیاالدین نے پھر سے میرے پاوں پر "ٹُھڈا” مارا کہ چپ کر۔ مجھے تھوڑا برا بھی لگا مگر وہ میرے بزرگ بھی تھے۔ دوسرا وہ وہاں بیٹھے ہوئے مجھے واضح لفظوں میں ٹوک بھی نہیں سکتے تھے۔ تو انہوں نے سوچا کہ میں حامد میر کو کیا سمجھاوں جو بریفنگ دے رہا ہے اسی کو سمجھاتا ہوں۔ انہوں نے جنرل صاحب سےکہا کہ آپ پاکستانی قوم کو فتح کر سکتے ہیں کشمیر کو فتح نہیں کر سکتے تو میں ان کا چہرہ دیکھنے لگا۔ جنرل صاحب ان کی بات پر غصے میں آگئے اور بہت پرجوش انداز میں ضیاالدین کو قائل کرنے کی کوشش کرنے لگے جبکہ ضیاالدین جوابی دلیل دینے لگے۔

سینئر اینکر  نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جب جنرل صاحب دلیل پر کوئی مضبوط جواب نہیں دے سکے تو میں نے ضیاالدین صاحب کی سائیڈ لے لی۔  جب مجھ سے دوبارہ پوچھا گیا تو میں نے بولا کہ سوال تو وہ منطقی کر رہے ہیں۔ وہ بات ختم ہونے کے قریبا ڈیڑھ دو ہفتے بعد خبریں آنے لگیں کہ کہیں پہ کچھ ہو رہا ہے پھر مئی سے جولائی تک ملک بحران کا شکار رہا ۔ تو وہ وہی صورتحال تھی جو ضیاالدین صاحب نے اپنی دلیل کے طور پر پیش کی تھی۔ جس کے بعد پرویز مشرف ہمیشہ ضیاالدین سے ناراض ہی رہے۔

حامد میر نےاپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 2006 سے 2009تک ضیاالدین لندن میں ایک انگریزی اخبار کے کارسپونڈنٹ تھے اور جب مشرف وہاں گئے تو ایک پریس بریفنگ میں ان کے خلاف قبل مذمت ریمارکس دیئے۔ جس کے بعد صحافیوں کی جانب سے پرویز مشرف کے خلاف مظاہرے بھی کئے گئے۔ آٹھ دس ماہ بعد اکتوبر میں فوجی بغاوت ہو گئی ۔ ضیاالدین صاحب نے تب بھی انہیں جہاں ضرورت سمجھی وہاں کھل کر ان پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ صرف پرویز مشرف ہی نہیں بلکہ تقریبا تمام حکومتیں ہی ضیاالدین سے ناراض رہتی تھی کیوں کہ وہ سبھی سے سوال کرتے تھے اور کسی بھی سیاسی پارٹی کے لئے جانبدار رویہ نہیں رکھتے تھے۔ وہ کسی بھی پارٹی کے نہیں بلکہ اپنے اصول کے پابند تھے۔ جب بے نظیر بھٹو  وزیراعظم تھیں تو ان سے بھی سوال کیا تو وہ بھی ضیاالدین سے ناراض ہو گئی تھیں اس کے علاوہ  نواز شریف صاحب سے بھی کوئی سوال کیا۔ انہوں نے کھل کر ناراضگی کا تو اظہار نہیں کیا تاہم ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے