English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایران نے اخلاقی پولیس" گشتِ ارشاد" کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا

القمر

ایران نے اپنی اخلاقی پولیس گشتِ ارشادکوختم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ ملک میں نافذالعمل سخت ضابطۂ لباس کی خلاف ورزی کے الزام میں مہساامینی کی گرفتاری اورپھرپولیس کے زیرحراست موت کے ردعمل میں گزشتہ اڑھائی ماہ سے زیادہ عرصے سے مظاہرے جاری ہیں اور ان کے دباؤکے بعد اخلاقی پولیس کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایران کے اٹارنی جنرل محمدجعفرمنتظری کا کہنا ہے کہ اخلاقیات پولیس کا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں اوراسے ختم کردیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کا یہ تبصرہ ایک مذہبی کانفرنس میں سامنے آیا جہاں انھوں نے شرکاء میں سے ایک کےاس سوال کا جواب دیا تھا کہ اخلاقیات پولیس کوکیوں ختم کیاجارہا ہے۔

اخلاقی پولیس کورسمی طور پرگشت ارشاد کے نام سے جاناجاتا ہے،اس کوسخت گیرسابق صدرمحموداحمدی نژاد کے دور میں قائم کیا گیا تھااس کا مقصدشرم وحیا اور حجاب کی ثقافت کو پھیلانااورضابطہ لباس کی پابندی کراناتھا۔

اس کا مقصدلازمی طورپرخواتین کا سرڈھانپنا ہے،ان  شعبوں  نے 2006 میں شہروں میں گشت کا عمل شروع کیا تھا۔

محکمہ گشت ارشادکے خاتمے کا اعلان منتظری کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہاتھا کہ پارلیمان اورعدلیہ دونوں ہی اس معاملے پرکام کررہے ہیں کہ آیا خواتین کو سر ڈھانپنے کی اجازت دینے والے قانون کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

صدرابراہیم رئیسی نے گزشتہ روز ٹیلی ویژن پر نشرہونے والے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کی جمہوری اوراسلامی بنیادیں آئینی طورپرمضبوط ہیں لیکن آئین کےنفاذ کے ایسے طریقے موجود ہیں جو لچکدارہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں خواتین کے لیے حجاب 1979 کے انقلاب کے چارسال بعد لازمی قراردیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے