ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر، نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے؟

میجر جنرل اعجاز اعوان کے مطابق پاکستان سمیت دنیا کے کسی ملک نے افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم ہی نہیں کیا تو اس حکومت کے ساتھ سفارتکاری کیسے کر سکتے ہیں۔
’ان کے تعاون سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات اور اس حوالے سے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق ’جب قومی سطح پر اتفاق رائے سے بننے والے ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو پھر عسکری ادارے دہشت گردی کو اپنے طریقے سے ہینڈل کرتے ہیں جو ایک وقتی کارروائی ہوتی ہے لیکن اس عفریت کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔‘
16 دسمبر 2014 کے اے پی ایس سانحے کے بعد جنوری 2015 میں تشکیل پانے والے نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کی اپنی رپورٹ کے مطابق پہلے چار سال میں 20 نکات میں سے چھ پر بالکل عمل درآمد نہیں ہوا۔ نیشنل ایکشن پلان کے نو نکات پر مکمل جبکہ پانچ پر تسلی بخش عمل کیا گیا۔

بشکریہ: اردو نیوز

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں