English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر، نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے؟

القمر
میجر جنرل اعجاز اعوان کے مطابق پاکستان سمیت دنیا کے کسی ملک نے افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم ہی نہیں کیا تو اس حکومت کے ساتھ سفارتکاری کیسے کر سکتے ہیں۔
’ان کے تعاون سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات اور اس حوالے سے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق ’جب قومی سطح پر اتفاق رائے سے بننے والے ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو پھر عسکری ادارے دہشت گردی کو اپنے طریقے سے ہینڈل کرتے ہیں جو ایک وقتی کارروائی ہوتی ہے لیکن اس عفریت کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔‘
16 دسمبر 2014 کے اے پی ایس سانحے کے بعد جنوری 2015 میں تشکیل پانے والے نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کی اپنی رپورٹ کے مطابق پہلے چار سال میں 20 نکات میں سے چھ پر بالکل عمل درآمد نہیں ہوا۔ نیشنل ایکشن پلان کے نو نکات پر مکمل جبکہ پانچ پر تسلی بخش عمل کیا گیا۔

بشکریہ: اردو نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے