English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ویڈیو میں بلا حجاب نظر آنے پر ایرانی فنکار گرفتار

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا ہےکہ ایرانی حکام نے ایک ایسی وائرل ویڈیو کے ذمہ دار دو اداکاروں کو گرفتار کیا ہے جس میں ایرانی فلم اور تھیٹر کی شخصیات کا ایک گروپ ایران کی احتجاجی تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سر ڈھانپے بغیر خاموشی سے کھڑا ہے۔

امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی نے بدھ کو بتایا تھا کہ اداکارہ اور ہدایت کارہ سہیلہ گلستانی، جو ویڈیو میں سر پر اسکارف کے بغیر نظر آئیں، اور مرد ہدایت کار حامد پورزاری، جو نمایاں طور پر نظر آتے ہیں، دونوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس نے مزید کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ انہیں کہاں رکھا جا رہا ہے۔

ویڈیو میں،سہیلہہ گلستانی، سیاہ لباس پہنے ہوئے، سر ڈھکے بغیر ، شاٹ میں آ تی ہیں اور اپنے چہرے کو ظاہر کرنے کے لیے مڑ کر براہ راست کیمرے میں دیکھتی ہیں۔

اس کے بعد نو دوسری خواتین اور پانچ مرد اسی انداز سے آ کر گلستانی کےساتھ شامل ہوجا تے ہیں۔

ایران وائر ویب سائٹ نے کہا کہ ویڈیو میں موجود تمام افراد ایرانی اداکار تھے۔ یہ واضح نہیں تھا کہ آیا انہیں بھی گرفتاری کا خطرہ ہےیا نہیں۔

ایرانی اداکارہ سہیلہ گلستانی کی جانب سے انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ویڈیو کا ایک اسکرین شاٹ جس میں وہ اگلی صف میں درمیان میں ہیں، وہ اوردیگر ایکٹرز، سر نہ ڈھانپ کرخواتین کے لیے ایران کے لازمی حجاب کو چیلنج کررہے ہیں

ایرانی اداکارہ سہیلہ گلستانی کی جانب سے انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ویڈیو کا ایک اسکرین شاٹ جس میں وہ اگلی صف میں درمیان میں ہیں، وہ اوردیگر ایکٹرز، سر نہ ڈھانپ کرخواتین کے لیے ایران کے لازمی حجاب کو چیلنج کررہے ہیں

ممتاز ایرانی ڈرامہ نگار نغمہ سمینی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تصدیق کی کہ گلستانی اور پورزاری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔انہوں نے گرفتاریوں کو اس”پر فار منس” پر "کچھ سامعین کا ردعمل” قرار دیا۔

22 سالہ مہسا امینی کی ستمبر میں موت نے، جنہیں تہران کی اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا تھا، دو ماہ سے زیادہ ہونے والے مظاہروں کو جنم دیا ہے جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد علما کی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔


جلاوطن ایرانی اداکارہ گلشفتہ فرحانی

جلاوطن ایرانی اداکارہ گلشفتہ فرحانی

احتجاجی تحریک کے دوران، کئی ایرانی اداکاروں نے اپنے سر سے اسکارف اتارنے کے ممنوع اشارے کیے ہیں، جب کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین کے لیے سکارف پہننا لازمی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں، ملک میں باقی رہ جانے والی ایران کی سب سے مشہور اداکاروں میں سے ایک، ترانے علیدوستی نے سوشل میڈیا پر سر پر اسکارف کے بغیر اپنی ایک تصویر پوسٹ کی تھی۔

ایرانی سنیما کی معروف شخصیات پوڈیوسر الیگزینڈر مالٹ گائے، شہاب حسینی، اشگر فرہادی، ترانے علی دوستی اور بابک کریمی فلم فورشندے کی نمائش سے قبل ریڈ کارپٹ پر پوز دے رہے ہیں۔

ایرانی سنیما کی معروف شخصیات پوڈیوسر الیگزینڈر مالٹ گائے، شہاب حسینی، اشگر فرہادی، ترانے علی دوستی اور بابک کریمی فلم "فورشندے” کی نمائش سے قبل ریڈ کارپٹ پر پوز دے رہے ہیں۔

ایران نے دو ممتاز اداکاراوں، ہنگامہ غازیانی اور کتایون ریاحی کو بھی گرفتار کیا، جنہوں نے احتجاجی تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے سر سے اسکارف کو عوام کے سامنے اتار دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق دونوں کو اب ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

امینی کی ہلاکت سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک سے پہلے ہی ایرانی سینما کی شخصیات دباؤ میں تھیں۔

انعام یافتہ ڈائریکٹرز محمد رسولوف اور جعفر پناہی اس سال کے شروع میں گرفتاری کے بعد اب تک زیر حراست ہیں۔

یہ رپورٹ ایسوسی ایٹڈ پریس کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے