اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک بار پھر کسی ‘ٹیکنوکریٹ’ سیٹ اپ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی ختم کرنے اور معاشی بحران حل کرنے کے لئے لایا جانا والا یہ سیٹ اپ دو سال تک چلے گا۔
نیا دور سے بات کرتے ہوئے ایک وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘ وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ سیاسی لوگ مشکل فیصلے کرنے سے گھبراتے ہیں، اور وقت کی ضرورت یہ ہے کہ معیشت کی بحالی کے لیئے مشکل فیصلے کئے جائیں۔ اس لیے ہمیں دو سال باہر رکھ کر ٹیکنوکریٹ حکومت لانا چاہ رہے ہیں’
وزیر نے مزید کہا کہ ‘ ہم نے عمران خان کو ہٹا کر جب حکومت سنبھالی تو معیشت برے حال میں تھی۔ ہم نے آئی ایم ایف ڈیل بحال کروانے کے لئے تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے اپنا سیاسی کیپٹل بھی ضائع کیا لیکن اب اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ ہم چپ کر کے سائیڈ پر بیٹھ جائیں۔ پہلے انہوں نے ملک اپنے لاڈلے کے حوالے کیا اور اب ہمیں بھی ڈکٹیٹ کر رہے ہیں کہ ان کے لاڈلے کا گند کیسے صاف کریں۔ ‘
وفاقی وزیر نے کہا ‘ وہ سوچتے ہیں کہ دو سال میں سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا۔ پھر وہ کسی اور لاڈلے کو لا کر کرسی پر بٹھا دیں گے۔ تب تک ہمیں سائیڈ لائن کیا جا چکا ہو گا۔ نئے پلان میں نہ ہم قابل قبول ہیں اور نہ عمران خان، اب یہ کوئی نیا لاڈلا لانا چاہتے ہیں۔ ہم نے اپنی پارٹی لیڈرشپ کو بتا دیا ہے کہ ہم ایسی کسی بھی پلاننگ کا حصہ نہیں بنیں گے جس میں عوامی نمائندوں کو کھیل سے باہر کر کے کسی ٹیکنوکریٹ کے ہاتھ ملک پکڑا دیا جائے’۔
ممکنہ سیٹ ایک کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ‘ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا بہت سے آپشن زیر غور ہیں۔ اگست تک اس پارلیمنٹ کی مدت پوری ہو جائے گی۔ تب تک معاملات بھی بہت حد تک کلئیر ہو جائیں گے۔ اگر معیشت ٹھیک ہوتی نظر آتی تو پھر الیکشن ضرور ہوں گے البتہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے باعث انتخابات میں کچھ دیر بھی ہو سکتی ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں الیکشن مسائل کو مزید گھمبیر کر دیں گے’۔
