اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کی طالبان عبوری انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ عورتوں کی سماجی زندگی میں شرکت کو محدود کرنے کے فیصلے اور اطلاقات کو کالعدم کیا جائے۔
سلامتی کونسل نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ طالبان کی طرف سے خواتین کے لئے یونیورسٹی تعلیم ممنوع قرار دئیے جانے پر ہمیں اندیشوں کا سامنا ہے۔
بیان میں چھٹی جماعت کے بعد لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کی گئی اور ملکی امکانات میں لڑکیوں کی مکمل، مساوی اور پُر معنی شرکت کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
کونسل نے طالبان سے، اسکولوں کو دوبارہ سے کھولنے کی، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا احترام کرنے اور بتدریج انحطاط کی طرف مائل پالیسیوں اور اطلاقات کو مثبت رُخ دینے کی، اپیل کی ہے۔
کونسل نے افغانستان کی سول سوسائٹیوں اور بین الاقوامی اداروں میں عورتوں کے کام کرنے کی ممانعت کو کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ یہ پابندی ملک میں انسانی امدادی آپریشنوں کو سخت متاثر کرے گی۔
واضح رہے کہ طالبان نے 24 دسمبر کو سول سوسائٹیوں میں خواتین کی ملازمت کو تا حکم ثانی ممنوع کر دیا تھا ۔
طالبان عبوری حکومت کی وزارت اقتصادیات کے ترجمان عبدالرحمٰن حبیب نے کہا تھا کہ ملک میں موجود تمام سول سوسائٹیوں کو فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور فیصلے پر عمل نہ کرنے والی سول سوسائٹیوں کے لائسنس منسوخ کر دئیے جائیں گے۔
طالبان عبوری انتظامیہ کی وزارت تعلیم نے 20 دسمبر کو تمام سرکاری و پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو جاری کردہ احکامات کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کو تا حکم ثانی ممنوع قرار دے دیا تھا۔ 15 اگست کو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک میں سرکاری و نجی سیکٹر میں کام کرنے والی کثیر تعداد میں عورتیں بے روزگار ہو چکی ہیں۔
