مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے ایک گروپ نے عیسائیوں کے قبرستان پر حملہ کر کے قبروں کو نقصان پہنچایا ہے۔
اطلاع کے مطابق یہودی آباد کار نئے سال کے آغاز پر، یکم جنوری بروز اتوار کو چوری چھُپے مشرقی بیت المقدس کی سیون پہاڑی پر واقع پروٹیسٹنٹ عیسائی فرقے کے قبرستان میں داخل ہو گئے اور 30 سے زائد قبریں توڑ ڈالیں۔
یہودی آبادکاروں نے تاریخی قبروں پر نصب سنگ مرمر کی صلیبیں توڑ ڈالیں اور کنکریٹ کے ٹکڑے ادھر اُدھر بکھیر دئیے۔
بیت المقدس کے راہب حسّام ناوم نے قبرستان میں اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ دوبارہ اس قسم کی توڑ پھوڑ کا احتمال ختم کرنے کے لئے ہم تمام ضروری اقدامات کریں گے۔
راہب نے کہا ہے کہ یہودی آباد کار اس سے قبل بھی بارہا قبرستان پر حملے کر چکے ہیں۔
اسرائیل پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کروا دی گئی ہیں۔
سیون پہاڑ پر واقع قبرستان 1848 میں سلطنت عثمانیہ کے دور میں پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔
