بارہا علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/YPG کے تاریک پہلو کو بے نقاب کرنے کی بنا پر جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے والی ولندیزی محقق رینا نیژ نے ٹرکش ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن (TRT) کو ایک بیان دیا ہے۔
رینا نیٹژ سال 2016 سے شمالی شام میں تحقیقات کر رہی ہیں، اس حوالے سے تحریر کردہ رپورٹوں اور بیانات کے باعث دہشت گرد تنظیم انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دے رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انہیں مغربی میڈیا کے بر عکس شمالی شام کے حوالے سے مختلف حقائق کا مشاہدہ ہوا ہے، ہمیں جو بتایا جاتا شامی شہریوں نے اس بالکل ہٹ کر بیان کیا ، میں نے کس کے درست ہونے کا تعین کرنے کی ٹھانی، سال 2016 میں پہلی بار شام جاتے ہوئے میں نے فیلڈ میں تحقیقات کیں اور اس سے حاصل کردہ نتائج کو آشکار کرنے میں ، میں نے خوف محسوس نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ان تحقیقات کے باعث پی کے کے۔ وائے پی جی کا ہدف بنی ہوئی ہیں، علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم شام میں قبضہ کردہ علاقوں میں سامراجی راج قائم کیے ہوئے ہے۔
شامی کردی باشندے وائے پی جی۔ پی کے کے کو نا پسند کرتے ہیں، کیونکہ یہ بہت ہٹ دھرم ہیں اور انہوں نے جن علاقوں پر قبضہ جما رکھا ہے وہاں کی 70 فیصد آبادی عرب شہریوں پر مشتمل ہے ، عرب قبائل ان کو بالکل نہیں چاہتے۔ عوام نے محض داعش سے راہ فرار اختیار نہیں کی بلکہ یہ PKK کے مظالم سے بچنے کے لیے بھی راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔
PKK/ وائے پی جی کے شہریوں کو ہدف بنانے کا ذکر کرنے والی ولندیزی محقق کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کے پاس مغرب سے جمع کردہ رقوم موجود ہیں لیکن انہوں نے عوام کے لیے کوئی سہولت نہیں لائی، علاقے کے پیٹرول کا کنٹرول بھی ان کے ہاتھ میں ہے ، البتہ عوام مفلسی سے دو چار ہے۔ تنظیم بعض علاقوں میں داعش کے خلاف نبرد آزما ہے لیکن یہ شام کے باقی ماندہ علاقوں میں شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اسپتالوں اور کیمپوں پر حملے اس کی مثال ہیں۔
رینا نے مزید کہا کہ شمالی شام میں محفوظ ترین علاقہ ترکیہ کے زیر کنٹرول مقامات پر مشتمل ہے۔
