جمہوریہ کانگو کے مشرق میں حکومتی فورسز اور باغی گروپوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے 13 نومبر سے لے کر اب تک 2 ہزار 61 افراد ہمسایہ ملک روانڈا میں پناہ لے چُکے ہیں۔
قومی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمہوریہ کانگو میں باغی تحریک M23"23 مارچ موومنٹ” اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شہریوں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
جمہوریہ کانگو میں 13 نومبر سے جاری جھڑپوں کی وجہ سے 2 ہزار 61 افراد ملک سے فرار ہو کر روانڈا میں پناہ لے چُکے ہیں۔
روانڈا کے علاقے نیابیہو میں پناہ لینے والے کانگو کے شہری طبّی سامان سمیت بنیادی انسانی امداد کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جمہوریہ کانگو کے مشرق میں فعال M23 تحریک کی طرف سے نومبر 2021 میں دوبارہ شروع ہونے والےحملے علاقے کے ہزاروں رہائشیوں کے مہاجر بننے اور روانڈ اور کانگو کے درمیان بحران پیدا کرنے کا سبب بنے تھے۔
کانگو کے باغی گروپوں اور حکومت کے درمیان 28 نومبر کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں شروع کروائے گئے مذاکرات میں 6 دسمبر کو، مذاکرات کو جاری رکھنے کے فیصلے کے ساتھ، وقفہ ڈال دیا گیا تھا۔
