سکھربیراج اور نہروں کی بھل صفائی کے کام کی آغاز، نہروں میں پانی کی سپلائی بند، سکھر بیراج کے گیٹ بھی کھول دیئے گئے ۔
دریا اور نہروں کی بھل صفائی کے باعث اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں پینے کے پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ، بھل صفائی سے قبل متعلقہ اداروں کو پانی کے انتظامات کرنے کے لیے لیٹر لکھ دیئے گئے تھے ۔
انچارج کنٹرول روم سکھر بیراج تفصیلات کے مطابق محکمہ ایریگیشن کی جانب سے سکھر بیراج اور اس سے نکلنے والی سات نہروں ناراکینال ، ایسٹ کینال ، ویسٹ کینال ، روہڑی کینال ، کھیر تھر کینال ودیگر کی سالانہ بھل صفائی کے کام شروع کر دیا گیا ہے ۔
محکمہ ایریگیشن کی جانب سے سکھر بیراج کے گیٹ کھول دیئے گئے جبکہ بیراج سے نہروں میں پانی کی سپلائی بند کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے سکھر ، روہڑی سمیت اندرون سندھ کے دیگر شہروں میں پینے کے پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے بھل صفائی کے حوالے سے رابطہ کرنے پر سکھر بیراج کے کنٹرول روم کے انچارج عبدالعزیز سو مرو نے بتا یا کہ بھل صفائی کا کام ہرسال چھ جنوری سے شروع کیا جا تا ہے ۔
پندرہ دن تک جا ری رہتا ہے جس کے دوران نہ صرف نہروں میں سے مٹی نکالی جا تی ہے بلکہ سکھر بیراج کے گیٹوں کو بھی کھول دیا جا تا ہے اور ان کو بھی رنگ و روغن کرنے کے علاوہ ان کی مرمت وغیرہ کا کام بھی کیا جا تا ہے نہروں کی بھل صفائی اور گیٹوں کی مرمت و رنگ روغن پر ہرسال محکمہ ایریگیشن کی جانب سے خطیر رقم خرچ کی جا تی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سکھر سمیت اندرون سندھ کے شہروں میں پینے کے پانی کا بحران پیدا نہ ہو اس کے لیے بھل صفائی کا کام شروع ہونے سے قبل ہی چیف انجنیئر سکھر بیراج کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو لیٹر لکھ دیئے گئے تھے جس میں انہیں پانی ذخیرہ کرنے اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

