اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے بین الاقوامی برادری پرزوردیاہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعاون اوریکجہتی کااظہارکریں جسے اس قدرتی آفت کا سامناہے جس کا وہ ذمہ دارنہیں ہے۔
برطانوی اخبارگارڈین میں شائع ایک مضمون میں شہبازشریف نے کہاکہ وہ اوراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لئے عالمی برادری سے مددکے حصول کیلئے پیرکوجنیوامیں Climate Resilient پاکستان سے متعلق عالمی کانفرنس کی مشترکہ صدارت کررہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں عالمی بینک،اقوام متحدہ، ایشیائی ترقیاتی بینک اوریورپی یونین کی معاونت سے سیلاب کے بعد تعمیرنواوربحالی کی سرگرمیوں کیلئے جامع حکمت عملی پیش کی جائیگی۔بحالی اورتعمیرنوکی حکمت عملی دوحصوں پرمشتمل ہے، پہلے حصے کاتعلق بحالی اورتعمیرنوکے فوری چیلنجوں کے ساتھ نمٹنے سے ہے جس کے لئے تین سال کی مدت میں کم ازکم سولہ ارب تیس کروڑ ڈالرکی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں پاکستان آدھی رقم اپنے وسائل سے پوری کرے گا لیکن بقیہ فرق کو پورا کرنے کیلئے ہمیں اپنے دوطرفہ اورکثیرجہتی شراکت داروں کی مسلسل معاونت درکار ہوگی۔ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے طویل مدتی ویژن کے تحت دس برس کی مدت میں تیرہ ارب پچاس کروڑڈالرکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بہترمواصلاتی ڈھانچے اورآبپاشی کے زیادہ موثرنظام کی تعمیراورمستقبل میں قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے کی پیشگی اطلاع کا نظام پاکستان کے لئے انتہائی ناگزیرہے۔

