صدر کے اطلاعاتی امور کے ڈائریکٹر فخر الدین آلتون نے کہا کہ صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ایک عالمی لیڈر ملک کی حیثیت اختیار کرنےوالا ترکیہ تعمیری اور استحکام کے اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
ڈائریکٹر فخر الدین آلتون کے نیشنل نیوز اخبار میں شائع ہونے والے ” دنیا کی پسماندہ ممالک کس طرح صدر ایردوان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کو کس طرح دیکھتے ہیں ؟ کے زیر عنوان سے مضمون پر تنقید کرتے ہوئے ایک خط تحریر کیا ہے۔
آلتون کا خط آج دی نیشنل نیوز میں شائع ہوا ہے ۔
آلتون نے کہا کہ ترکی نے داعش کے علاوہ دنیا کے دہشت گرد تنظیم کے طور تسلیم کی جانے والی پی کے کے، تنظیم PKKاور اس کی شامی شاخ YPG کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ترکیہ نے بڑا فعال کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ "ہم اس خطے میں استحکام کا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔”
آلتون نے کہا ہے کہ صدر ایردوان نے 24 فروری سے جاری روس یوکرین جنگ کو رکوانے کے لیے نہ صرف کلیدی کردار ادا کیا، ہے بلکہ وہ اناج کی ترسیل اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بھی بڑے اہم اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔
نیٹو میں شمولیت کے لیے سویڈن اور فن لینڈ کی درخواست کا ذکر کرتے ہوئے آلتون نے کہا کہ ترکیہ ان ممالک کے اپنی کچھ پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کا خواہاں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی خارجہ اور قومی سلامتی کی پالیسیاں ترک قوم کے مفادات کی عکاسی کرتی ہیں۔
آلتون نے کہا صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ایک عالمی لیڈر ملک کی حیثیت اختیار کرنےوالا ترکیہ تعمیری اور استحکام کے اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
اخبار کے کالم میں آلتون نے لکھا ہے کہ اس سال ترکیہ میں ہونے والے انتخابات نہ صرف مقامی اہمیت کے حامل ہوں گے بلکہ جغرافیائی سیاسی اثرات بھی مرتب کریں گے، آلتون نے کہا کہ صدرایردوان علاقائی اور عالمی جیو پولیٹیکل میدان میں منجھے ہوئے اداکار ہیں ۔
آلتون نے کہا کہ ترکیہ میں امسال ہونے والے انتخابات صرف خطے ہی کے لیے اہمیت کے حامل نہیں ہیں بلکہ اس کے اثرات جیو پولیٹیکل مرتب ہوں گے ۔
انہوں نے غیر ملکی ریاستوں کی سوچ کیا ہے اس سے ہٹ کر ہم صرف ترک شہریوں کے انتخابات میں ووٹنگ کرنے اور ان ہی کے ملک کے مستقبل کا تعین کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
