سویڈن کے وزیر اعظم اولاف کرسٹرسن نے کہا ہے کہ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/PYG کے حامیوں کا اسٹاک ہوم بلدیہ کے سامنے اشتعالی مظاہرہ سویڈن کی نیٹو رکنیت کی درخواست کے خلاف ایک سبوتاژ کاروائی ہے۔
اُولاف کرسٹرسن نے سویڈن کے ٹی وی 4 چینل کے لئے تحریری بیان میں، کل تاریخی بلدیہ عمارت کے سامنے، علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/YPG کے حامی گروپ کی طرف سے صدر رجب طیب ایردوان کا پُتلا دار پر چڑھائے جانے کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
کرسٹرسن نے کہا ہے کہ یہ مظاہرہ نہایت غیر ذمہ دارانہ اقدام تھا اور سویڈن کے نیٹو رکنیت مرحلے کو سبوتاژ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ میرے خیال میں مظاہرہ سویڈن کی سلامتی کے لئے ایک خطرناک صورتحال ہے”۔
کرسٹرسن نے کہا ہے کہ "سویڈن کے دو معروف سیاستدان قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں اس حوالے سے دیکھا جائے تو ملک میں کسی جمہوری طریقے سے منتخب لیڈر کی تمثیلی پھانسی نہایت تشویشناک صورتحال ہے”۔
سویڈن کے وزیر خارجہ ٹوبیاس بِل اسٹروم نے بھی ٹویٹر سے PKK/YPG کے حامیوں کے اشتعالی مظاہرے کو ‘کریہہ’ قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ ترکیہ نے، 28 جون کو اسپین کے شہر میڈرڈ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس میں فن لینڈ اور سویڈن کی طرف سے پیش کردہ رکنیت درخواست کو ویٹو کر دیا تھا۔ بعد ازاں انقرہ نے، دہشت گردی کے کھُلے بندوں حامی، دونوں ممالک کے ساتھ ایک پروٹوکول طے کیا تھا۔ پروٹوکول کے ذریعے توقع ہے کہ مذکورہ دونوں ممالک اپنے عزائم کو پورا کریں گے۔
