وزیر اعظم شہباز شریف نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر سمیت دونوں ممالک کے درمیان در پیش تمام مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی اور خلوص سے مذاکرات کریں۔
وزیر اعظم نے بھارتی قیادت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آئیے مل جل کر تمام دیرینہ تنازعات حل کر تے ہیں تاکہ ہتھیاروں کی دوڑ کی بجائے ہم اپنے قیمتی وسائل کو غربت اور بے روزگاری کے خاتمے، معیاری تعلیم کے حصول اور صحت کی سہولیات پر خرچ کر سکیں۔
دبئی کے العربیہ ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں متحدہ عرب امارات اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں انتہائی گھناونے طریقے سے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور اس ملک میں اقلیت کو مظالم کا سامنا ہے، اگر بھارت چاہتا ہے کہ یہ مذاکرات کے لیے تیار ہے تو پھر اسے جارحیت سے باز آنا ہو گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاک و بھارت دو ہمسایہ ممالک ہیں اور انہیں مل جل کر زندگی بسر کرنے کی ضرورت ہے، امن و امان کے ماحول میں زندگی گزارنا اور پیش رفت حاصل کرنے ہمارے ہاتھ میں ہے تو ایک دوسرے سے بحث و تکرار کرتے ہوئے وقت اور ذرائع سے ہاتھ دھونا بھی ہم پر ہے۔
یہ یاد دلاتے ہوئے کہ ہندوستان اور پاکستان نے 3 جنگیں لڑی ہیں، جس سے عوام میں مزید غربت اور بے روزگاری آئی، وزیر اعظم نے کہا، "ہم نے اس سے سبق سیکھا ہے اور اگر ہم اپنے حقیقی مسائل کو حل کر نے تک ایک دوسرے کے ساتھ امن کے ماحول میں زندگی بسر کر سکتے ہیں ۔”
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم غربت میں کمی، خوشحالی کے حصول، تعلیم، حفظان صحت کی سہولیات میں اضافہ اور عوام کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں،، "ہم اپنے وسائل کو بموں اور گولہ بارود پر ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ یہ میرا وزیر اعظم مودی کو واضح پیغام ہے۔
