ترکیہ کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولونے سویڈن کی نیٹو رکنیت کے بارے میں کہا ہے کہ اگر سویڈن اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔ لیکن موجودہ شرائط میں ہمارا اس ملک کی رکنیت کی حمایت کرنا ممکن نہیں ہے”۔
چاوش اولو اور ہنگری کے وزیر خارجہ و وزیر تجارت پیٹر سزیجارتو نے دارالحکومت بداپست میں مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کی۔
پریس کانفرنس میں ترکیہ اور ہنگری کے سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو رکنیت کی حمایت نہ کرنے والے دو ممالک کی حیثیت پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ "ہم، بحیثیت ترکیہ، بالکل ہنگری کی طرح نیٹو کی توسیع کے حامی ہیں۔ ترکیہ تو سویڈن اور فن لینڈ کے سکیورٹی خدشات کو سمجھتا ہے لیکن مقابل فریق کی طرف سے ترکیہ کے سکیورٹی خدشات کو رفع نہ کیا جانا قابل قبول نہیں ہے۔
چاوش اولو نے کہا ہے کہ "ترکیہ کا اندیشہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ہے۔ قابل افسوس امر ہے کہ ان دونوں ممالک اور خاص طور پر سویڈن میں فیتو، پی کے کے اور پی وائے ڈی کی بھاری تعداد موجود ہے۔ مذکورہ دہشت گرد تنظیمیں ان ممالک میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ کرنسی جمع کرنے، دہشت گردی کو فنانس کرنے ، انسانی بھرتی اور پروپیگنڈے جیسی کاروائیاں بھی کر رہی ہیں”۔
ترکیہ، سویڈن اور فن لینڈ کے درمیان طے پانے والے سہہ فریقی معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چاوش اولو نے کہا ہے کہ "اس معاہدے کی رُو سے مذکورہ ممالک اپنی ملکی حدود کے اندر ان دہشت گرد تنظیموں کی کار وائیوں کو بند کروائیں گے۔ ہمارا مطالبہ نہ اس سے کم ہے نہ زیادہ”۔
انہوں نے سزیجارتو کے سویڈن میں قرآن سوزی کو ناقابل قبول قرار دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ "ہمارے عقیدے میں صیہونیت دشمنی بھی ایک انسانی جُرم ہے اور عیسائی دشمنی بھی انسانی جُرم ۔ اسی طرح اسلام دشمنی بھی ایک انسانی جُرم ہےایک ایسا فعل جُو انسانی جُرم ہو اسے نہ تو اظہار کی آزادی کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی فکر و عمل کی آزادی ۔
وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ "بحیثیت ایک مسلمان کے میرا یقین ہے کہ دیگر اعتقادات اور مقدس کتابوں کا بھی اسی طرح احترام کیا جانا ضروری ہے۔ اگر آئندہ دنوں میں سویڈن بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو ہم بھی اس کی نیٹو رکنیت کے معاملے پر غور کر سکتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں ہمارا اس رکنیت کی حمایت کرنا ناممکن ہے”۔
