وزیرِ خارجہ میولود چاوش ولو نے کہا ہے کہ سویڈن میں اشتعال انگیزی اور اس کے مرتکب افراد کا مقصد اس ملک کی نیٹو رکنیت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے ، ہم سہہ فریقی مطابقت کی ضمانتوں کو پورا کرنے سے متعلق سٹاک ہوم انتظامیہ سے ٹھوس اقدام کی توقع کرتے ہیں۔
چاوش اولو نے اسٹونیا کے دارالحکومت تالین میں اس ملک کے وزیر خارجہ ارماس رین سالو سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرس کا اہتمام کیا۔
فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو رکنیت درخواست پر اپنے جائزے پیش کرنے والے چاوش اولو نے کہا کہ ہم ان دونوں ممالک کے سیکیورٹی خدشات کو سمجھتے ہیں، ترکیہ نے نیٹو کی مشرقی شاخ میں میثاق کے مشنز اور سرگرمیوں کو تقویت دینے کے لیے ہر ممکنہ تعاون فراہم کیا ہے۔
وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب سویڈن اور فن لینڈ نے نیٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی ہم نے اسوقت اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور ان دونوں ممالک کے ساتھ بات چیت کے بعد میڈرڈ میں ایک سہ فریقی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، انہوں نے اس طرف اشارہ بھی دیا کہ سویڈن اور فن لینڈ نے اس مفاہمت کی یادداشت کو عملی جامہ پہنانے کا عہد کیا تھا۔
چاوش اولو نے سویڈن میں نئی حکومت کا قیام عمل میں آنے اور کہیں زیادہ سیاسی ارادے کا مشاہدہ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "سیاسی ارادے کا اظہار کیے جانے کے باوجود ہمارے مذاکرات میں یا پھر بعض نمایاں بیانات میں ہم نے کسی تا حال کسی ٹھوس قدم کا مشاہدہ نہیں کیا ۔ خاصکر سویڈن کی جانب سے ہمیں آمادہ کرنے والا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ہم ان وعدوں کی پاسداری کرنے سے متعلق ٹھوس اقدامات کے منتظر ہیں۔ سہہ رکنی ضابطہ مطابقت میں ہمیں ان عوامل کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دوست اور اتحادی کے طور پر ہمیں ایک دوسرے کے جائز سیکیورٹی خدشات کو سمجھنا چاہیے، محض یکطرفہ طور پر خدشات کو سمجھنا کافی نہیں۔
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا ترکیہ نے فن لینڈ اور سویڈن کی رکنیت کے عمل کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، چاوش اولو نے کہا کہ صدر رجب طیب ایردوان اور انہوں نے بذات ِ خود شروع سے ہی کہا تھا کہ نیٹو میں فن لینڈ کی رکنیت کے معاملے میں مسائل کی تعداد کم ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ "تاہم، اس مرحلے پر، ترکیہ نے اس رکنیت کے عمل کو الگ کرنے کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ یہ نیٹو کے فریم ورک کے اندر اٹھایا جانے والا ایک قدم ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی رکنیت کے عمل کو الگ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، اگر نیٹو ان رکنیت کو الگ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ بلاشبہ ترکیہ فن لینڈ کی رکنیت کے عمل کو اپنائے گا اور یہ اس مرحلے پر اس کا الگ سے جائزہ لے گا اور اس معاملےکا کہیں زیادہ مثبت انداز میں جائزہ لے گا۔
جب ان سے ان الزامات کے بارے میں پوچھا گیا کہ سویڈن میں نے پچھلے ہفتوں میں اشتعال انگیزی کا ارتکاب "روس نے کیا”، چاووش اولو نے کہا کہ :”میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ‘یہ ملک ، یہ گروپ اشتعال انگیزی کے پیچھے ہے’، لیکن میں آپ کو واضح طور پر بتا سکتا ہوں کہ اس اشتعال انگیزی اور اشتعال انگیزی کا مقصد سویڈن کی رکنیت کو روکنا ہے۔”
