ترکیہ نے، یورپی پارلیمنٹ جنرل کمیٹی اجلاس کے دوران علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم ‘پی کے کے’ کے حامی گروپوں کے احتجاجی مظاہرے اور اجلاس کو سبوتاژ کرنے کے اقدام کی مذمت کی ہے۔
ترکیہ وزارت خارجہ نے، یورپی پارلیمنٹ جنرل کمیٹی اجلاس کے دوران دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کے پوسٹروں اور نعروں کے ساتھ کئے گئے مظاہرے میں مداخلت نہ کئے جانےکے خلاف، بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں کہاگیا ہے کہ” علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کے حامی گروپوں نے یورپی پارلیمنٹ جنرل کمیٹی اجلاس کے دوران مظاہرہ کیا اور آئینی کاروائیوں کو سبوتاژ کیا۔ ان افراد کی یورپی پارلیمنٹ میں اس قدر آسان رسائی اور من پسند شکل میں احتجاجی مظاہرے کی آزادی ناقابلِ قبول ہے۔ ان افراد کی کاروائیوں میں فوری مداخلت نہ کیا جانا بھی علیحدہ سے حیرت انگیز امر ہے”۔
پیغام میں کہا گیا ہے کہ "ہم اس مظاہرے کی شدت سے مذمت کرتے ہیں۔ یہ مظاہرہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ کی عاجزی اور غیر مخلصانہ روّیے کو منظر عام پر لے آیا ہے”۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ” جب تک یورپی پارلیمنٹ اور یورپی یونین کے دیگر ادارے اس لاپرواہی کو برقرار رکھتے ہی، یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود، یونین کے اندر PKK کی موجودگی اور اثر و رسوخ کا خاتمہ نہیں ہو سکے گا۔ دہشت گرد تنظیم کے حامی مذکورہ افراد پارلیمنٹ کی عمارت میں کس کے واسطے سے اس قدر آسانی سے داخل ہوئے اس پہلو کی بھی یقیناً تحقیق کی جانی چاہیے "۔
واضح رہے کہ ماضی میں مذکورہ سے مشابہہ اشتعالی مظاہرے کے بعد، یورپی پارلیمنٹ سربراہی بیورو میں 21 نومبر 2017 کو اتفاقِ رائے سے کئے گئے فیصلے کے ساتھ ، PKK سے منسلک افراد یا گروپوں کا یورپی پارلیمنٹ کی عمارت میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔
