لاہور: نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن علی بلال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز جعلی ہیں اور جو ہمیں رپورٹ موصول ہوئی ہے اس میں کارکن تشدد سے نہیں مرا ۔
پی ٹی آئی کارکن کی موت کے حوالے سے نگراں وزیرِ اعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور آئی جی پنجاب عثمان انور نے لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس رپورٹ آئی کہ بندہ تشدد سے نہیں مرا، راجا شکیل نے یاسمین راشد کو معلومات دیں کہ گاڑی سے بندہ ہٹ ہوا، یاسمین راشد نے راجا شکیل کو کہاآپ میرے ساتھ کل زمان پارک چلیں ۔
انہوں نے کہ اس واقعے کے بعد ہم آپس میں بیٹھے اور اسی ٹائم ہمارے پاس یہ اطلاعات آئیں کہ وہ بندہ تشدد سے نہیں مرا، اس پر آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور نے اسی وقت کام شروع کردیا، اس حوالے سے مزید بات کرنے سے پہلے آئی جی پنجاب آپ کو تمام تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
آئی جی پنجاب عثمان انور نے پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کل مقتول علی بلال کے والد لیاقت علی نے ویڈیو پیغام میں مجھ سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی موت کے بارے میں مکمل معلومات دی جائے، تفتیش کی جائے اور انصاف دیا جائے۔
عثمان انور نے کہا کہ شہری لیاقت علی نے اپنے بیٹے علی بلال کی موت کی تحقیقات کرنے کی اپیل کی ، فیصلہ کیا گیا ہے کہ پولیس تشدد کے شواہد ملے تو مکمل کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس پر ڈنڈےبرسائےگئے،پتھراؤکیاگیا توکارروائی ضرور ہوگی ، کالے رنگ کی گاڑی سروسز اسپتال آنے کی ویڈیو رپورٹ ہوئی ہے، گاڑی 31 کیمروں کی مدد سے جی پی ایس کی مدد سے وارث شاہ روڈ سے برآمد کی ، گاڑی کے ڈرائیور کا نام جہانزیب اور مالک کا نام راجا شکیل ہے ،اس شخص کو مارنے کی سازش نہیں تھی ، ظل شاہ کے والد سے وعدہ ہےکہ انہیں تمام شواہد پیش کریں گے۔
آئی جی پنجاب نے بتایا کہ 6 بج کر 24 منٹ پر یہ گاڑی فورٹریس برج پر علی بلال سے ٹکرا گئی تھی، گاڑی چلانے والوں کا کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں تھا، ان کی علی بلال کو مارنے کی کوئی سازش نہیں تھی، انہوں نے اس کو فوری طورپر گاڑی میں ڈالا اور 6 بج کر 31 منٹ پر سی ایم ایچ ہسپتال پہنچایا لیکن گیٹ بند تھا، بعدازاں وہ اسے مختلف چوکوں سے لے کر 6 بج کر 52 منٹ پر سروسز ہسپتال پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ گرفتار کیے جاچکے ہیں جنہیں جلد عدالت میں پیش کردیا جائے گا، اس گاڑی کے مالک کا نام راجا شکیل ہے جن کی علی بلال کو قتل کرنے کی کوئی نیت نہیں تھی، یہ پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے وائس پریزیڈینٹ ہیں۔

