فرانس کے شہر للی میں متنازع پنشن اصلاحات کے خلاف ہڑتال شروع کرنے والے مظاہرین نے پل کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا جس سے آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔
فرانسیسی پریس کی خبر کے مطابق، ایک ہجوم نے شہر کے مرکزی دروازے پر واقع ٹورنائی پل کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے ۔
اصلاحات کے خلاف مظاہرے جس میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو بتدریج 62 سے بڑھا کر 64 کرنے کو کہا گیا ہے کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے کی وجہ سے صبح سے ہی آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
اطلاع کے مطابق ہجوم اب دوسرے پلوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔
سیکورٹی فورسز نے علاقے میں پہنچ کر مظاہرین سے پل کھولنے کی اپیل کی ہے۔
فرانسیسی وزیر اعظم ایلزبتھ بورن نے 10 جنوری کو اعلان کیا کہ پنشن اصلاحات پر عمل درآمد شروع کردیا جائے گا۔
اصلاحات میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال ہے وہاں قانونی ریٹائرمنٹ کی عمر میں بتدریج ہر سال 3 ماہ کا اضافہ کیا جائے گا اور اسے 2030 میں بڑھا کر 64 کر دیا جائے گا، اور اصلاحات کہا کہ 2027 میں 43 سالہ پریمیم کی ادائیگی کی شرط ہوگی۔
متنازعہ اصلاحات کے خلاف 19 جنوری سے ملک بھر میں متعدد ہڑتالیں اور مظاہرے جاری ہیں۔
سینیٹ نے 9 مارچ کو اصلاحات کے سب سے متنازعہ آرٹیکل جس میں ریٹائرمنٹ کی عمر بتدریج 62 سے بڑھا کر 64 کرنے کو کہا گیا ہے اور اسے 12 مارچ کو اصلاحات کے بل کی منظوری دی گئی تھی۔
ان اصلاحات پر مشترکہ کمیشن میں غور کرنے کے بعد منظوری کے لیے دوبارہ سینیٹ میں ووٹنگ کے لیے پیش کی جائے گی اور بعد میں اسے حتمی ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
