English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

میڈیکل کے طلبہ کو حافظ قرآن کی بنیاد پر اضافی نمبر دینا سمجھ سے بالاتر ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

comprehension

سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ میڈیکل کے طلبہ کو حافظ قرآن ہونے کی بنیاد پر اضافی نمبر دینا سمجھ سے بالاتر ہے، کیا کسی عیسائی کو انجیل حفظ کرنے پر اضافی نمبر ملتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی اسپیشل بینچ نے میڈیکل کے طلبہ کو حافظ قرآن ہونے پر اضافی 20 نمبر دینے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل کے طلبہ کو حافظ قرآن ہونے کی بنیاد پر اضافی نمبر دینا سمجھ سے بالاتر ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ صرف میڈیکل ڈگری ہی نہیں ہر شعبے میں حافظ قرآن ہونے کی بنیاد پر 20 اضافی نمبر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ یہ حساس معاملہ ہے، مسلمان حفظ اللہ کے لیے کرتا ہے نمبر لینے کے لیے نہیں، کیا کسی مسیح کو انجیل حفظ کرنے پر 20 اضافی نمبر ملتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کیس کو تبھی سنا جا سکتا ہے جب شفافیت سے مقرر ہوا ہو، شفاف طریقہ کار سے مقرر نہ ہونے والے مقدمات کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا کام کرنے کا طریقہ کار ایک معمہ ہے جو میری سمجھ سے بالاتر ہے جس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس طریقہ کار سے یہ کیس نہیں سن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے میڈیکل کے طلبہ کو حافظ قرآن ہونے پر اضافی 20 نمبر دینے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت پر’خصوصی’ بینچ بنانے پر اعتراض اٹھا دیا۔دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسپیشل بنچ میں کیس سننے سے انکار کر دیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ رولز میں کہاں درج ہے کہ خصوصی بینچ بنایا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ کا ریگولر بینچ کیسز کیوں نہیں سن سکتا؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اتنا بھی کیا ضروری معاملہ تھا کہ لارجر بینچ یا فل کورٹ کے بجائے خصوصی بینچ بنایا جائے۔قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اسپیشل بینچز بنائے جانے چاہئیں، ہاں یا نہ میں جواب دیں۔اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی نے کہا کہ اگر عدالت اس معاملے پر نوٹس کرے گی تو جواب دے دوں گا۔

پی ایم ڈی سی کے وکیل نے دلائل دیے کہ روایت پر بھی عمل ہوتا ہے،ضروری نہیں کہ ہر چیز رولز یا آئین میں درج ہو اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کیا مارشل لا لگ جائے تو اس کو بھی روایتی عمل سمجھ کر قبول کر لیں گے، جو آئین و قانون میں درج ہو اسی پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ تین ججوں کو تین مختلف بینچوں سے اکٹھا کرکے اس بینچ میں بٹھا دیا ہے، یا تو کچھ اتنا اہم ہوتا کہ چھٹی کے دن عدالت لگتی اور خصوصی بینچ بنایا جاتا، میڈیکل کے طلبہ کو حافظ قرآن ہونے پر 20 اضافی نمبر دینے کا حکم 14 ماہ پرانا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اگر 20 اضافی نمبر حافظ قرآن ہونے کی بنیاد پر دینے ہیں تو پارلیمان سے قانون سازی کرائیں، کیا پارلیمان کا احتساب نہیں ہوتا، کیا جج قابل احتساب نہیں، میرے علم کے مطابق ججوں کا کوئی احتساب نہیں ہوتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے