اسلام آباد: دفتر خارجہ نے افغانستان کے لیے سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی جانب سے دی گئی تجاویز پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے بارے میں بن مانگے مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔
امریکی صدور ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن دونوں کی انتظامیہ میں افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی کے طور پر کام کرنے والے زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ پاکستان کم تر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور بھارت سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں کہا تھا کہ پاکستان کو تین سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی بحرانوں کا سامنا ہے، بے پناہ صلاحیت کے باوجود یہ کم تر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اپنے حریف بھارت سے بہت پیچھے ہے۔
زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالنے، پھانسی دینے، قتل کرنے وغیرہ کے ذریعے تسلسل کے ساتھ نسل کشی غلط راستہ ہے اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو گرفتار کرنے سے بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔انہوں نے پاکستان کے موجود چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دو مرحلوں پر مبنی حل تجویز کرتے ہوئے کہا کہ پہلا قدم جون کے اوائل میں ہونے والے عام انتخابات کی تاریخ طے کرنا ہے تاکہ مزید بحران روکا جا سکے۔
زلمے خلیل زاد نے تمام اہم سیاسی جماعتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو غلط ہوا ہے اس کا مقابلہ کریں اور ملک کو مستحکم، سلامتی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن اور مسائل سے بچانے کے لیے مخصوص منصوبہ بندی تجویز کرنے کی ضرورت ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے زلمے خلیل زاد کی ٹوئٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آج درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کسی کے لیکچرز یا بن مانگے مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک پرعزم قوم کے طور پر ہم موجودہ مشکل صورت حال سے مضبوط بن کر نکلنے میں کامیاب رہیں گے۔

