کابل:طالبان کے امیر ہبۃ اللہ اخوندزادہ نے ہدایت کی ہے کہ طالبان حکام اپنے رشتے داروں کو سرکاری ملازمتوں سے فارغ کردیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے افغان حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ان تمام رشتے داروں کو برطرف کریں، جنہیں انہوں نے سرکاری نوکریاں یا سرکاری عہدے دے رکھے ہیں۔
ہبۃ اللہ اخوندزادہ کی جانب سے جاری حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اہلکار اپنے بیٹوں یا خاندان کے دیگر افراد کی جگہ دوسرے افراد کا تقرر کریں اور مستقبل میں بھی رشتے داروں کو ملازمت دینے سے گریز کریں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے 2021میں اقتدار سنبھالتے ہی کچھ سینئر عملے کو برطرف کر دیا تھا، جب کہ دیگر فرار ہو گئے تھے تاہم اب ایسے الزامات سامنے آئے ہیں کہ ناتجربہ کار عملے کو ذاتی تعلقات کی بنیاد پر رکھا گیا ہے۔
حالیہ حکم نامہ ان الزامات کے بعد جاری کیا گیا ہے کہ طالبان کے کئی سینئر عہدیداروں نے اپنے بیٹوں کو حکومت کے اندر کام کرنے کے لیے مقرر کیا تھا۔
واضح رہے کہ طالبان کے افغانستان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے افغانستان کو معاشی اور انسانی بحران کا سامنا ہے۔مرکزی بینک کے بیرون ملک اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور زیادہ تر غیر ملکی فنڈنگ معطل ہے۔

