اقوام متحدہ نیو یارک:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے یہودی بستیوں سے متعلق اسرائیلی کاروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے انہیں فورا بند کرنے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منعقدہ مشرق وسطی نشست میں مسئلہ فلسطین پر غور و خوص کیا گیا،اقوام متحدہ کے مشرق وسطی امن مرحلے کے خصوصی منتظم ‘ٹور وینس لینڈ’ نے بذریعہ ویڈیو کانفرنس نشست میں شرکت کی اور کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب ماہِ رمضان بھی ہے، ایسٹر بھی اور عید فسح بھی تمام فریقین کو تناو میں اضافہ کرنے والے یک طرفہ اقدامات سے پرہیز کرنا چاہیے۔
وینس لینڈ نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں 4غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر دوبارہ شروع کرنے پر مبنی آئین پر بھی تنقید کی اور حکام سے اپیل کی ہے کہ اس حساس دور میں اشتعالی کاروائیاں بند کی جائیں ۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی رہائشی بستیوں کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے یہ بستیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، میں اسرائیل سے اپیل کرتا ہوں کہ بین الاقوامی قانون کے معاملے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور تمام رہائشی بستیوں کی تعمیر فوری طور پر بند کرے۔
وینس لینڈ نے پر تشدد کاروائیوں اور دہشت گردی کی مذمت کی اور کہا ہے کہ تشدد کے ذمہ داروں کو عدالت کے کٹہرے میں لانے کی اور دونوں فریقین کو زیادہ گھمبیر بحران میں دھکیلنے والے اقدامات کے سامنے بند باندھنے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے لئے فلسطین کے مستقل نمائندے ریاض المنصور نے بھی نشست سے خطاب میں کہا کہ فلسطینی عوام اپنا ملی وجود رکھتی ہے اور ایک طویل زمانے سے مذکورہ زمینوں میں اس وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے، فلسطینی عوام درپیش تمام مصائب و آلام کے باوجود ختم نہیں ہو گی۔
منصور نے کہا کہ گذشتہ سال، دریائیا ردن کے مغربی کنارے کے لئے ،” مہلک ترین سال” تھا، ایک طویل زمانی عرصے میں حاصل کئے گئے حقوق اور کامیابیوں کو سب کی نظروں کے سامنے ختم کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو فلسطینی عوام کا دفاع کرنا چاہیے اور تشدد و اشتعال کے خاتمے کے لئے ہر قدم اٹھانا چاہیے،برطانیہ، سوٹزرلینڈ، فرانس، متحدہ عرب امارات، برازیل اور جاپان سمیت نشست سے خطاب کرنے والے دیگر ممالک نے بھی غیر قانونی رہائشی بستیوں کی تعمیر سے متعلق اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی اور دو حکومتی حل کی حمایت کی ہے۔

