اسلام آباد: وفاقی حکومت کا پنشن بل 609 ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے جب کہ 6 ہزار 600 سے زائد گھوسٹ پنشنرز کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود گھوسٹ پنشنرزکا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ وفاقی حکومت کا پنشن بل 609 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ،جبکہ گھوسٹ پنشنرزکا مسئلہ تاحال حل نہیں ہو سکا ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ 9لاکھ 49 ہزارپنشنرزکو تاحال مینوئل طریقے سے پنشن کی ادائیگی جاری ہے ، جن میں6 ہزار 600 سو سے زائد گھوسٹ پنشنرزبھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق 32 لاکھ 38 ہزارپنشنرزمیں سے 22 لاکھ 90 ہزار ڈائریکٹ کریڈٹ اسکیم پرمنتقل ہوچکے ہیں اورسول پنشنرز90 فیصد، ملٹری پنشنرز41 فیصد براہ راست بینک اکاوٴنٹ میں پینشن لیتے ہیں پنجاب، سندھ اورخیبرپختونخوا میں 100 فیصد پنشنرزکو بینک اکاوٴنٹ میں ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔
بلوچستان میں 93 فیصد پنشنرزکو ڈی سی ایس اسکیم پرمنتقل کردیاگیاوزرات خزانہ کے حکام کے مطابق پینشن کی ادائیگی 100 فیصد ڈی سی ایس سسٹم پرمنتقلی کے لیے ایک سال درکار ہے۔

