English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

انتخابات التوا کیس: سپریم کورٹ بینچ ایک بار پھر تحلیل ہوگیا

القمر

پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات میں تاخیر کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سماعت کرنےوالا سپریم کورٹ کا بینچ ایک بار پھر ٹوٹ گیا۔ جسٹس جمال خان مندو خیل نے کیس سننے سے معذرت کرلی۔

چیف جسٹس  عمر عطا بندیال نے آج  4 رکنی بینچ   تشکیل دیا تھا جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔ عدالت کی جانب سے آج کی کازلسٹ بھی جاری کی گئی تھی۔

کیس کی سماعت آج ساڑھے گیارہ بجے ہونا تھی تاہم جسٹس جمال مندوخیل کی معذرت کےبعد بنچ دوسری مرتبہ ٹوٹ گیا۔

بینچ کی تشکیل کے بعد جسٹس جمال خان مندو خیل کا اختلافی نوٹ بھی سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا کہ عدالتی حکمنامہ کورٹ میں نہیں لکھوایا گیا اور مجھ سے حکمنامے پر مشاورت بھی نہیں کی گئی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کو عدالت میں زیر توجہ لانے کی ضرورت ہے۔

پنجاب اورخیبرپختونخوا کے انتخابات کیس میں حکمران اتحاد نے فل کورٹ بینچ بنانے کا مطالبہ کررکھا ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہا کہ اگر بینچ ایسے ہی ٹوٹتے اور بنتے رہیں تو ادراے کی ساکھ کا کیا ہوگا۔ چیف جسٹس کو چاہیے تھا کہ فل کورٹ بینچ بناتے۔ پوری قوم اس معاملے پر رنجیدہ ہے۔

گزشتہ روز بینچ میں شامل جسٹس امین الدین خان نے سماعت کرنے سے معذرت کی تھی۔

جسٹس امین الدین خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا۔

اُن کا اشارہ ان کے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے جاری کردہ تجویز کی جانب تھا جس میں انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 (3)کے تحت ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا کہا تھا۔

قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات سے متعلق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023  کے منظور ہو جانے کے بعد سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی جانب سے ازخود نوٹس اور آئینی اہمیت کے مقدمات پر سماعت مؤخر کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے فیصلہ جاری کیا۔

خصوصی بینچ میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں اور فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے