اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پنجاب اور کے پی میں انتخابات سےمتعلق کیس میں اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی۔
چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر سربراہی جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پنجاب ،کے پی انتخابات التوا کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل تک جیلوں میں رہنے والے آج اسمبلی میں تقاریر کر رہے ہیں، کیونکہ وہ عوام کے نمائندے ہیں۔
پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹیو کونسل عدالت میں پیش ہوئے اور چیف جسٹس کو فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ بنائیں یا کم از کم فل کورٹ میٹنگ کی جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس پر ہم سوچ رہے ہیں، ججز کے آپس میں تعلقات اچھے ہیں، باہمی اعتراف اور شائستہ گفتگو پہلے بھی ہوئی اور بعد میں بھی، سیاسی معاملات سامنے آئے جس پر میڈیا اور پریس کانفرنسز سے تیل ڈالا گیا، عدالت نے سارے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کیا، کچھ لوگ چند ججز پر تنقید کررہے ہیں کچھ دوسرے ججز پر تنقید کررہے ہیں، ہم اس معاملہ کو بھی دیکھیں گے، سماعت کے بعد کچھ ملاقاتیں کروں گا، تو قع ہے کہ پیر کا سورج اچھی نوید لے کر طلوع ہوگا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے گزارش ہے کہ پہلے درجہ حرارت کم کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کو دفاترسے نکال کر گھروں میں قید کیا گیا، معجزہ ہوا کہ ججز واپس دفاتر آگئے، 90 کی دہائی میں کئی بہترین ججز واپس نہیں آسکے، آئین،جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے، کل تک جیلوں میں رہنے والے آج اسمبلی میں تقاریر کر رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں، اسمبلی کی مدت ہوتی ہے اور ہاؤس کے سربراہ کو تحلیل کا اختیار ہے، 90 دن کا وقت اپریل میں ختم ہو رہا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدر نے 90 دن کی مدت کے 15 دن بعد تاریخ دی، صدر کو الیکشن کمیشن نے حالات نہیں بتائے تھے، صدر کو حالات سے آگاہ کیا ہوتا تو شاید 30 اپریل تاریخ نہ آتی، عدالت کے سامنے مسئلہ 8 اکتوبر کی تاریخ کا ہے، عدالت کو ٹھوس وجہ بتائیں یا ڈائیلاگ شروع کریں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایک فریق پارٹی چیئرمین کی گارنٹی دے رہا ہے، شاید حکومت کو بھی ماضی بھلانا پڑے گا، اسمبلیوں کی مدت ویسے بھی اگست بھی مکمل ہورہی ہے، اگر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوں تو کچھ دن وقفہ کرلیں گے، اگر مذاکرات نہیں ہونے تو آئینی کردار ادا کریں گے، عدالتی فیصلہ بااختیار ہوگا، جس میں ہر فریق کے ہر نقطے کا ذکر کریں گے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی حکم ہے، 9 رکنی بینچ کے 2 اراکین نے رضاکارانہ بینچ سے علیحدگی اختیار کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو کس نے کہا کہ 2 ججز بینچ سے الگ ہوئے تھے، عدالت کا 27 فروری کا حکم پڑھیں اس میں کہاں لکھا ہے؟ معاملہ چیف جسٹس کو بینچ کی ازسر نو تشکیل کے لیے بھیجا گیا تھا، چاہتا تو تمام ججز کو بھی تبدیل کر سکتا تھا، اگر آپ وہی کرنا چاہتے ہیں جس سے مسئلہ بنا تو یہ ہماری پرائیویسی میں مداخلت ہوگی، سماعت روکنے والا حکم ہم ججز آپس میں زیر بحث لائیں گے، آپ درجہ حرارت کم کرنے والی آپشن پر ہی رہیں، جلد ہی ان معاملات کو سلجھا دیں گے۔
فل بینچ کے حوالے سے چیف جسٹس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ والا معاملہ میرے ذہن میں تھا، ایک بات یہ ہے کہ معمول کے مقدمات متاثر نہ ہوں، بعض اوقات تمام ججز دستیاب نہیں ہوتے، گزشتہ ہفتے کوئٹہ ، کراچی اور لاہور میں بھی بینچ تھے ، اس ہفتے بھی لاہور میں بینچ تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عوام جاننا چاہتے ہیں الیکشن کب ہوں گے، انتخابات تک تمام فریقین سے پرامن رہنے کی گارنٹی چاہتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نےکہا کہ انتخابات کے لیے وسائل ہم فراہم کریں گے، ضرورت پڑی تو آرمڈ فورسز کو بھی بلوائیں گے۔
عدالت نے کیس کی سماعت پیر ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

