English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ججز سے پوچھا جائے وہ کس آئین کے تحت ایوان کو قانون سازی سے روک سکتے ہیں،اسعد محمود

القمر

اسلام آباد:وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود نے کہا ہے کہ ہم بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ان تین ججز صاحبان کو ایوان کی استحقاق کمیٹی میں بلائیں اور ان سے پوچھیں کہ آپ اس طاقت ور ایوان کو قانون سازی سے کیسے کس آئین، کس قانون کے تحت روک سکتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم یہاں 22 کروڑ عوام کے محافظ آئین کا تحفظ کر رہے ہیں، اس آئین کی حفاظت کر رہے ہیں جس نے رٹ آف دی گورنمنٹ کا نفاذ کرنا ہے جس پر کبھی مارشل کے ذریعے اور کبھی دوسرے حربوں سے اس پر حملہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں ملک میں قدامت پرست یہودیوں کا ایک نمائندہ متعارف کرایا جاتا ہے، دنیا بھر میں اسرائیلی مفادات کے لیے آواز بلند کرنے والوں کا نمائندہ متعارف کرایا گیا، وہ نمائندہ پاکستان میں انہیں نظریات کے لیے کام کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہاں وزیر اعظم نے مذاکرات کی بات کی، ہم اصولی طور پر ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سیاست دان مذاکرات کریں گے لیکن کسی کے دباو پر وہ مذاکرات کریں گے، ہم اس دباو سے انکار کرتے ہیں، ہم نے پہلے بھی انکار کیا ہے، ہم پھر انکار کریں گے۔

مولانا اسعد محمود نے کہا کہ جس طرح سے چیئرمین سینیٹ نے ایک کمیٹی کی بات کی، ہمارا اور اتحادی حکومت کا نقطہ نظر صرف یہ تھا کہ ہم پورے ملک میں ایک ساتھ انتخابات چاہتے ہیں، ہم سپریم کورٹ میں گئے ہمیں فریق نہیں بنایا گیا، ہمارے خلاف فیصلہ دیا گیا، ہم نے کہا ہمیں فل کورٹ دیں، جو بھی فیصلہ ہوگا، ہمیں منظور ہوگا لیکن انہوں نے یکطرفہ فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یہ ایوان حرکت میں آیا، یہاں قراردادیں پاس ہوئیں، ان کے خلاف جس طرح کے فیصلے جاری ہوئے، اس پر جس طرح سے بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا، ہم بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تین ججز صاحبان کو ایوان کی استحقاق کمیٹی میں بلائیں اور ان سے پوچھیں کہ آپ اس طاقت ور ایوان کو قانون سازی سے کیسے کس آئین، کس قانون کے تحت روک سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے