ترکیہ کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ "روس ۔ یوکرین جنگ میں’ ترکیہ’ امن کی امید ہے۔ ترکیہ ہی کی کوششوں سے گلوبل غذائی بحران کا سدّباب ممکن ہوا ہے”۔
چاوش اولو نے ٹویٹر سے "روس۔یوکرین جنگ اور ترکیہ کی کوششیں، اقدامات اور ہماری انسانی و موئثر خارجہ پالیسی” کے زیرِ عنوان جاری کردہ بیان میں 24 فروری 2022 سے جاری جنگ کے دوران ترکیہ کی کاوشوں کا جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے پہلی دفعہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں ملاقات کی۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے، صدر رجب طیب ایردوان کی زیرِ سرپرستی ،استنبول میں مذاکراتی وفود کی میزبانی کی ۔ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ہم نے اناج راہداری سمجھوتہ کیا اور گلوبل غذائی بحران کا سدّباب کیا ہے۔
چاوش اولو نے کہا ہے کہ ہم نے روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کو یقینی بنایا اور روس کی اسٹیٹ اٹامک انرجی کارپوریشن ‘روس ایٹم’ اور بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی IAEA کے درمیان روابط میں سہولت پیدا کی ہے۔
وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ ہم مونترو سمجھوتے کا بھی نہایت محتاط شکل میں اطلاق کر رہے ہیں۔
