English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

طالبان حکام سے ملنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے: سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ

القمر

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ جب مناسب وقت آیا تو وہ افغانستان کے طالبان حکام سے ملاقات کریں گے۔ فی الحال طالبان حکام سے ملنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے نذرالاسلام کے مطابق سیکریٹری جنرل نے ان خیالات کا اظہار منگل کو دوحہ میں افغانستان کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے منعقدہ دو روز ہ کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

سیکریٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانا مشکل ہے، یہ آج دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران ہے۔

انتونیو گوتریس کے بقول 97 فی صد افغان عوام غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، دو کروڑ 80 لاکھ آبادی میں سے دو تہائی کو اس برس زندہ رہنے کے لیے انسانی امداد کی ضرورت ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ 60 لاکھ افغان بچے، مرد اور خواتین قحط جیسے حالات سے محض ایک قدم دُور ہیں اور اس دوران فنڈنگ ختم ہو رہی ہے۔

گوتریس کے بقول افغانستان میں اقوامِ متحدہ، عالمی اور مقامی اداروں میں خواتین کو کام سے روکنا، ناقابلِ قبول اور اُن کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ "میں آج واضح کرتا ہوں کہ ہم خواتین کے حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم پر منظم حملوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔”

خیال رہے کہ دنیا کے مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے خصوصی نمائندوں پرمشتمل دو روزہ کانفرنس قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پیر سے شروع ہوئی تھی، تاہم اس کانفرنس میں طالبان کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے زیر اہتمام اس کانفرنس کامقصد افغانستان کو درپیش چیلنجزکاحل تلاش کرنا ہے۔ کانفرنس کے شرکا طالبان حکومت کی جانب سے خواتین پرعائد مختلف پابندیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

کانفرنس میں پاکستان، امریکہ، روس، برطانیہ، چین، ایران، انڈونیشیا اور بھارت سمیت خطے کے دیگر ملکوں کے وفود بھی شریک ہیں۔



‘دوحہ کانفرنس میں طالبان وفد کو نہ بلانا خرابی ہے’

دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے وائس آف امریکہ افغان سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ کانفرنس میں طالبان کو مدعو نہ کرنا ‘خرابی’ ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کے نمائندوں کو مدعو کیے بغیر اس اجلاس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکے گا۔ سہیل شاہین کے بقول اُن کی دوحہ میں چین اور برطانیہ کے سفارت کاروں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں میں افغانستان کی موجودہ صورتِ حال اور تعمیر نو کے منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے