English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس سیمینار میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے واقعات پر اظہار تشویش

القمر

اسلام آباد: اسلام آباد میں جبری گمشدگیوں کے حوالے سے مشاورتی سیمینار میں پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے  ۔  اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ  جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے حل کے لیے تمام لیگل اور سول سوسائٹی فورمز استعمال کیے جائیں گے ۔

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام سمینار سے ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ،جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خا ن، پاکستان پیپلز پارٹی کے  سینیٹر فرحت اللہ بابر،سینئراینکر پرسن،صحافی حامد میر،فوزیہ صدیقی،عافیہ صدیقی کے وکیل کلاوسٹیفرڈ سمتھ، وکلاء ،سول سوسائٹی  اور میڈیاکے نمائندگان نے شرکت کی۔

سیمینار  سے خطاب کرتے ہوئے  جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خا ن نے کہا کہ جبری گمشدگیوں  کا مسئلہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے ۔میں مستقل طور پر  پارلیمنٹ اور عوام میں اس حوالے  سے بولتا رہتا ہوں۔جہاں بھی جاتا ہوں لاپتا افراد کے خاندانوں کے  لوگ مجھے ملتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگ اٹھائے جا رہے ہیں خاص طور پر خیبرپختونخوا ،بلوچستان میں مستقل طور پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں اور گزشتہ چند ماہ میں پنجاب اس حوالے سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔پاکستان میں نجی جیلیں ہیں۔میں نے بلوچستان کی  نجی جیل میں قید لوگوں کی تصاویر پارلیمنٹ میں دکھائیں کہ انہیں رہا کرو۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے بعد ان میں سے چند افراد کو قتل کر دیا ہے جس میں ایک مظلوم بچی بھی شامل تھی اور انہیں لاوارث لوگوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ہمیں اس حوالے  سے ہر جگہ اپنی آواز اٹھانی چاہیے۔ان ہی واقعات  کے سبب  میں نے سینیٹ میں جنرل (ر) پرویز مشرف  کے لیے دعا تک نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو بغیر کسی گناہ کے اٹھایا جاتا ہے۔اب ظلم یہ ہوا ہے کہ بچیوں کو اٹھایا جانے لگا ہے۔

سینیٹر فرحت اللہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے پر زور دیا ۔

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم ہو گئی ہے۔افغانستان نے اپنے تمام قیدی رہا کر دیے ہیں جب کہ پاکستان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔انہوں نے کہا کہ  لاپتا افراد کے خاندانوں کو جذباتی اور معاشی طور پر کچل دیا گیا ۔وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت میں آنے سے پہلے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو حل کروانے کی یقین دہانی کروائی تھی تاہم ابھی تک ہمارے مسائل جوں کے توں ہیں ۔ہم چار حکومتیں دیکھ چکے ہیں۔ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مسئلے کے حل کے لیے تمام لیگل اور سول سوسائٹی فورمز استعمال کریں گے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینئر اینکرپرسن اور صحافی حامد میر نے کہا کہ عافیہ صدیقی کے حوالے سے 2003ء میں ہم بولناشروع ہوئے لیکن ابھی تک مسئلہ حل نہیں ہوا۔ انہوں نے تجویز  دی کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جو سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں سے ملاقاتیں کرے اور پارلیمنٹرین اس مسئلے کو آئندہ الیکشن سے پہلے  اپنے منشور میں شامل کریں کہ پاور میں آ کر وہ یہ مسئلہ حل کروائیں گے ۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ یہ ایک ماں سے بچوں کے چھن جانے کی داستان ہے۔ سول سوسائٹی اور میڈیا کو اس حوالے سے ہر فورم پر آواز اٹھانی چاہیے۔خطاب کے دوران فوزیہ صدیقی آبدیدہ ہو گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے