ڈاکٹر مہمت اُچار کے طبی مشوروں پر مبنی پروگرام چشمہ شفاء کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔
آج ہم آپ کے ساتھ صحت کے جس موضوع پر بات کریں گے وہ ہے "حافظہ اور اسے مضبوط بنانے کے قدرتی طریقے”۔
اگر حافظے کے مسائل کا سامنا ہو یا پھر حافظے کی کسی بیماری کی طبّی تشخیص ہو چُکی ہو تو روزمرّہ زندگی میں بعض حفاظتی تدابیر کے ساتھ بیماری کی شکایات میں کمی کر کے اسے پیچیدہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
1۔جسمانی حرکت یعنی ورزش
ورزش دورانِ خون میں تیزی لا کر دماغ میں آکسیجن کی رسائی میں اضافہ کرتی ہے۔ اس طرح ورزش نہ صرف دماغی صحت کی حفاظت کرتی بلکہ قلبی شریانوں کو بھی صحت مند رکھتی ہے۔ مثلاً آپ روزانہ چہل قدمی کر سکتے ہیں، سائیکل سواری کر سکتےہیں یا پھر دوڑ لگا سکتے ہیں۔ورزش ذہنی دباو میں کمی کرتی اور ڈپریشن کے دورے پڑنے سے بچاتی ہے۔ اگر آپ پہلی دفعہ ورزش شروع کر رہے ہیں اور آپ کو صحت کا کوئی اور مسئلہ ہے تو ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔
صحت مند بالغ افراد کی اکثریت کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی تیز رفتار چہل قدمی جیسی درمیانے درجے کی ورزش یا پھر ہفتے میں 75 منٹ کی دوڑ جیسی سخت ورزش کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس ورزش کو پورے ہفتے تک پھیلانا سب سے اچھا ہو گا لیکن اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے تو دن بھر میں کم از کم 10 منٹ کی واک ضرور کریں۔
2۔ ذہنی چُستی
جس طرح ورزش آپ کے جسم کو فعال ، چاق و چوبند اور چُست رکھتی ہے اسی طرح ذہنی مشغولیت آپ کے دماغ کو صحت مند اور چُست رکھتی ہے۔ ذہنی فعالیت کے لئے آپ مندرجہ ذیل مشغلے اپنا سکتے ہیں۔
- پزل کو حل کرتے وقت آپ کو پہلے سے معلوم معلومات کو دوبارہ استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔
- سوڈوکو پزل کو حل کرتے وقت بھی آپ کو توجہ مرکوز کرنے اور دیر تک مرکوز رکھنے کا موقع ملے گا۔ یہ مشغولیت آپ کی یاد داشت کو بہتر بنائے گی اور ماضی قریب کی یادوں کی بحالی میں مدددے گی۔
- تصویری معّما حل کرتے ہوئےآپ رنگوں اور شکلوں کی پہچان کریں گے اور یہ ذہنی ورزش آپ کو ماضی قریب کی باتیں یاد رکھنے میں مدد دے گی۔ معّمے کا درست حصہ ملنے پر آپ کو خوشی ملے گی جس سے توجہ میں اضافہ ہو گا۔
- نئی معلومات سیکھنا یا پڑھنا بھی ذہنی فعالیت کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ جو کتاب آپ پڑھیں اس کے بارے میں کسی کے ساتھ تبادلہ خیالات کر سکتے اور واقعات کے درمیان روابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جو فلم یا ڈرامہ آپ دیکھیں اس پر بھی کسی دوست یا قریبی شخصیت کے ساتھ تبادلہ خیالات کر سکتے ہیں۔
- نئے مشاغل نہ صرف آپ کے سماجی روابط میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ذہنی صحت کے ساتھ تعاون کرتے، اسے فعال رکھتے اور ڈپریشن کے رجحان کو کم کرتے ہیں۔
- مشغلے کے طور پر کوئی ساز بجانا بھی سیکھ سکتے ہیں۔
3۔ صحت کے پیچیدہ مسائل پر قابو پائیں۔
ہائی بلڈ پریشر، تھرائیڈ، شوگر، ڈپریشن، وٹامن کی کمی، سماعت کی کمی اور موٹاپے جیسے مسائل پر قابو پانے کے لئے اپنے ڈاکٹر کے مشوروں پر عمل کریں۔ آپ اپنا جس قدر زیادہ خیال رکھیں گے آپ کی یادداشت اسی قدر اچھی ہو گی۔ جو ادویات آپ استعمال کر رہے ہیں اپنے ڈاکٹر کے ساتھ مل کر ان پر مسلسل نظر ثانی کرتے رہیں کیونکہ بعض ادویات آپ کی یاد داشت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
4۔ تنہائی سے بچیں
سماجی روابط ذہنی دباو اور ڈپریشن کے سدّباب میں مدد دیتے ہیں۔ ذہنی دباو اور ڈپریشن دونوں حافظے کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر اگر آپ اکیلے زندگی گزار رہے ہیں تو دوست احباب کے ساتھ عزیز و اقارب کے ساتھ ملاقات کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
5۔منّظم اور مربوط زندگی گزاریں
اگر آپ کا گھر ہر وقت بکھرا ہوا رہتا ہے تو یہ بکھراو کسی چیز کی جگہ بھولنے کو زیادہ یقینی بنائے گا۔ کسی نوٹ دفتر میں یا کسی کیلنڈر پر اپنے پروگرام کو نوٹ کریں ۔ کہیں جانا ہو، کسی کو وقت دیا ہو تو اسے بھی نوٹ کریں۔
لکھی ہوئی باتوں کو یاد رکھنے کے لئے جو چیز لکھیں اسے ایک دفعہ اونچی آواز سے پڑھ کر دوہرائیں۔ جو کام آپ نے کرنے ہیں انہیں باقاعدگی سے نوٹ کریں اور حل کرنے کے بعد ان پر اشارہ لگائیں۔ چابیاں، بیگ اور عینک جیسی اشیاء کو آسانی سے تلاش کرنے کے لئے ان کے لئے کوئی ایک جگہ مخصوص کریں اور ان اشیاء کو اسی جگہ پر رکھیں۔
ایسی چیزیں جو آپ کی توجہ کو منتشر کرتیں ہیں ان کی فہرست کو محدود کریں۔ ایک ہی وقت میں بہت سے کام کرنے سے پرہیز کریں۔ جو چیز آپ یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس پر توجہ مرکوز رکھنے کی صورت میں کچھ دیر کے بعد اس چیز کی یاد تازہ ہونے کا امکان زیادہ قوی ہو گا۔ کسی چیز، نام یا شخصیت کو اپنے پسندیدہ گیت یا کسی قول سے منسلک کرنا بھی حافظے کی بازیافت میں مدد دے گا۔
6۔نیند کے اوقات کی پابندی
معیاری اور وقت پر لی گئی نیند تفہیم اور یاداشت کو مضبوط بناتی ہے۔ رات کے وقت نیند کے لئے طے شدہ وقت پر بستر پر لیٹ جائیں اور پوری نیند لیں۔ تھکن کو دُور کرنے کے لئے اپنے پروگرام یا سفر کے اوقات کو رات گئے تک پھیلانے سے پرہیز کریں۔
کم خوابی آپ کی یاداشت کو کمزور کرتی ہے لہٰذا دن بھر میں بھی مختصر وقت کے لئے نیند لینا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک بالغ فرد کو 7 سے 9 گھنٹے تک سونا چاہیے۔
7۔ صحت مند خوراک
صحت مند خوراک نہ صرف قلبی بلکہ ذہنی صحت کے لئے بھی نہایت ضروری ہے۔ مثلاً گوشت کی بجائے مچھلی اور دیگر سمندری غذاوں، سبزیوں، پھلوں، اخروٹ اور زیتون کے تیل جیسی ذہن دوست غذاوں کا استعمال حافظے کو صحت مند رکھنے میں مفید ثابت ہو گا۔
8۔ ذہنی دباو سے دور رہیں
شدید ذہنی دباو حافظے کو کمزور کرتا ہے۔ جس قدر ممکن ہو ایسی چیزوں سے دُور رہیں جو ذہنی دباو کا سبب بنتی ہوں۔ چہل قدمی کریں، آپ کے اعصاب کو پُر سکون کرنے والی موسیقی سُنیں، باغ باغیچے میں کام کریں اور سانس کی ورزش جیسی مصروفیات اپنائیں۔
9۔ سگریٹ نوشی سے بچیں
سگریٹ نوشی آکسیجن کی دماغ تک رسائی کو روکتی اور اس طرح یاداشت کی کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ دماغی شریانوں کی بیماریوں کے خطرے میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ دماغی و قلبی صحت کے لئے سگریٹ نوشی کو ترک کر دیں۔
