اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کوئی انتقامی کارروائی نہیں بلکہ قانون کے مطابق ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مظاہرین کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔
وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے عمران خان کی گرفتاری کی وجوہات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران کی گرفتاری القادر ٹرسٹ کیس میں کی گئی ہے، یہ ایک پراپرٹی ٹائیکون کی منی لانڈرنگ کی رقم یو کے میں پکڑی گئی تھی، 190 ملین پاؤنڈ (60 ارب روپے) عوام کی ملکیت تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ رقم قومی خزانے میں واپس آنی تھی، برطانیہ نے حکومت پاکستان سے رقم کی واپسی کے لیے رابطہ کیا۔ شہزاد اکبر کی دلالی میں سودا پایا گیا۔ 2 ارب شہزاد اکبر نے اپنی دلالی کی مد میں لیا۔سوہاوہ اور بنی گالہ میں پراپرٹی القادر ٹرسٹ کے نام سے رجسٹر ہوئی، 60 ارب کی رقم قومی خزانے میں لانے کے بجائے سپریم کورٹ میں ایڈجسٹ کروادی گئی،سپریم کورٹ نے بھی نوٹس نہیں لیا کہ جو رقم یوکے سے آرہی ہے کیوں آرہی ہے کس کی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف دستاویزاتی ثبوت ہیں، وہ اس کیس میں پیش نہیں ہوئے اور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، شامل تفتیش ہونے سے انکار کردیا، ان کی گرفتاری وارنٹ پر ہوئی ہے، یہ انتقامی کارروائی نہیں بلکہ ثابت شدہ ڈاکیومنٹڈ کرپشن ہے، حلفیہ کہتا ہوں اس کیس سے متعلق میری نیب سے کوئی بات نہیں ہوئی اور چیئرمین نیب سے کبھی نہیں ملا۔
رانا ثنا نے کہا کہ ہمیں گلہ نہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹس لیا ہے، ہماری گرفتاریوں کے وقت عدلیہ اتنی فعال نہیں تھی، جب روز شہزاد اکبر جھوٹی پریس کانفرنس کررہا تھا، جب نیب کے چیئرمین کو ایک ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کیا گیا، جب لوگوں کے خلاف منشیات کے جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے، اس وقت تو سوموٹو نوٹس نہیں لیے گئے، ہمارے پکارے جانے پر بھی انصاف نہیں مل رہا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو اسلام آباد میں ریہیب مرکز میں رکھا جائے جہاں ان کا علاج بھی ہوجائے اور تفتیش بھی ہوجائے۔ تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی مظاہرین نے امن و امان میں خلل ڈالا اور سڑکیں بند کیں تو ان کیساتھ پوری سختی اور طاقت سے نمٹا جائے۔
