English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عمران خان کو لگتا ہے اگلے دو ہفتوں میں جنرل عاصم منیر کے خلاف بغاوت ہو جائے گی: صحافی عمران شفقت

القمر

سینئیر صحافی اور تجزیہ کار عمران شفقت نے یہ انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے ایک ملنے والے کو بتایا کہ اگلے دو ہفتوں میں فوج میں بغاوت ہو جائے گی اور جنرل سید عاصم منیر کا کورٹ مارشل ہو گا۔

اپنے حالیہ وی-لاگ میں 9 مئی کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے صحافی عمران شفقت کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان کے قریبی لوگوں نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ جنرل سید حافظ عاصم منیر 2کے خلاف آئندہ دو ہفتوں میں فوج کے اندر سے ہی بغاوت کا آغاز ہو جائے گا۔ اور جنرل سید حافظ عاصم منیر کا کورٹ مارشل ہو گا۔

عمران شفقت کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ایک قریبی شخص نے ان سے ملاقات کا احوال سناتے ہوئے بتایا۔

9 مئی کے واقعات کے بعد صورتحال تو کچھ یوں ہے کہ عمران خان کے کئی سہولتکاروں نے ان سے ہاتھ اٹھا لیے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے بھی 9 مئی سے پہلے تک خوب ڈنکے کی چوٹ پر عمران خان کو ریلیف پر ریلیف دیا گیا تاہم 10 مئی سے حالات ان کے لیے بھی سازگار نہیں اور اب ان کے لیے عمران خان کی کھلے عام مدد کرنا مشکل ہو گئی ہے۔ تاہم اس تمام معاملے میں یہ اندازے غلط ہیں کہ اب عمران خان کے حمایتی موجود نہیں۔

18 مارچ کو اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی پر بھی جو کچھ ہوا اس میں سی ایس پی افسر سمیت بڑے افسران ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے ایس پی کا فون ٹیپ کیا گیا تھا اور اسلام آباد کے ایس پی کو شواہد کے ساتھ پکڑا گیا۔

اس سے قبل بھی عمران خان متعدد بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ انہیں اندر سے معلومات ملتی ہیں اور وہ اپنے خلاف کی جانے والی ہر حکمت عملی سے آگاہ ہیں۔

سید عمران شفقت نے کہا کہ 9 مئی کو بھی عمران خان کو ایک پولیس والے نے فون فراہم کیا جس سے وہ مسرت جمشید چیمہ، اسلم اقبال اور حماد اظہر  کے ساتھ رابطے میں تھے۔ وہاں وہ ویڈیوز بھی بنی۔ ٹیلی فون کالز ٹیپ بھی ہوئیں۔ واضح طور پر وہ تمام مواد عمران خان اور دیگر کے خلاف پراسیکیوشن میں استعمال کیا جائے گا۔ تاہم 9 مئی کو جب یہ لوگ رابطے میں تھے اور باہر جو کچھ ہو رہا تھا تو یہ لوگ بہت بڑی خوش فہمی کا شکار تھے۔ وہ لوگ جو ان کو فون دے رہے تھے، وہ جو ان کو مرسیڈیز میں بٹھا کر عدالت میں بلا رہے تھے کیونکہ کسی نے عمر عطا بندیال کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ کسی طرح عمران خان کو رہا کروا دیں اور اس کے بعد جب وہ سڑک پر نکلیں گے تو پاکستان میں انقلاب آچکا ہو گا۔ عاصم منیر کا تختہ الٹ چکا ہو گا۔چونکہ بندیال صاحب کے پاس یہ آخری پتا تھا انہوں نے خان صاحب کے لیے وہ بھی چل دیا۔ عمران خان کو عدالتی حکم پر پولیس گیسٹ ہاوس میں رکھا گیا۔ معاملے کو دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں منتقل کیا گیا اور اس کے بعد عمران خان کو ریلیف پہ ریلیف ملتا گیا۔ یہ تمام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی منشا پر ہوتا رہا کیونکہ پاکستان کی چند اہم شخصیات کی جانب سے ان کو یہ بات باور کروائی گئی تھی کہ بس عمران خان کو نیب اور جیل کے چنگل سے نکال لیں اور جب وہ باہر آئیں گے تو عوام کا بپھرا ہوا سمندر باہر نکلے گا اور جو کس 9 مئی کو رہ گئی تھی وہ بھی پوری ہو گئی۔ جب اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس چل رہا تھا اسی رات 12 بجے جنرل عاصم منیر پاکستان واپس آگئے تھے۔ اس کے بعد بہت واضح پیغامات کا تبادلہ ہوا جس سے بہت سی شخصیات کے حوصلے ٹوٹ گئے اور عمر عطا بندیال کو بھی یہ سمجھ آگیا کہ اب پہلے کی طرح کھلے عام عمران خان کے ساتھ شانہ بشانہ نہیں چل سکتے اور ان کے اقتدار میں واپس آنے کے لیے مدد نہیں کر سکتے۔اس کے باوجود بیوروکریسی میں کچھ لوگ تاحال عمران خان کی سہولتکاری میں مصروف ہیں۔

9 مئی واقعات کے حوالے سے لاہور سیف سٹی ہاوس میں اہم اجلاس ہوا جس میں آئی جی پنجاب عثمان انور کی جانب سے اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ کچھ کالز ٹیپ ہوئی ہیں جس میں عمران خان نے خواتین کو ہدایت دی ہے کہ ویڈیوز بنا کر بھیجیں اور پولیس پر الزام لگائیں کہ جیل میں ہراساں کیا جارہا ہے۔ اس پر وزیراعظم شہباز شریف نے آئی جی پنجاب سے پوچحا کہ آپ نے اس کے تدارک کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ جیل میں قید خواتین کے فونز لے لیے ہیں، کیمرے لگا دیے ہیں اور خواتین پولیس اہلکار ان کی نگرانی کر رہی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سوال کیا کہ کیس کتنے مضبوط ہیں؟ پراسیکیوشن پنجاب کے سیکریٹری عثمان کو بلایا گیا اور تفصیلات پوچھی گئیں۔ پراسیکیوشن سیکریٹری نے پہلے تو اسرار کیا کہ وہ تمام تفصیلات وزیراعظم کو تنہائی میں بتائیں گے لیکن وزیراعظم کی جانب سے ہدایت ملنے پر پراسیکیوشن سیکریٹری نے بتایا کہ یہ تمام کیس ‘مذاق’ ہیں۔ انہوں نے بریفنگ میں بتایا کہ کیسز کے لیے جیوفینسگ ڈیٹا کی تفصیلات، ایف آئی آر سے مختلف ہیں۔ ڈیٹا کچھ اور کہہ رہا ہے ایف آئی آرز کچھ اور کہہ رہی ہیں۔ عدالت نے فیصلہ ایف آئی آر کی بنیاد پر سنانا ہے۔ پولیس نے اتنے کمزور کیس بنائے ہیں۔ ان ایف آئی آرز کے متن کو دیکھیں ان میں کوئی الزام ہی نہیں ہے۔ وکیل نے چند سیکنڈز میں ملزم کو بری کروا لینا ہے۔ اور خدیجہ شاہ، عمران خان، یاسمین راشد ، چوہدری اعجاز، محمودالرشید اور میاں اسلم اقبال پر انہیں کیسز کی بنیاد پر آرمی 1952 کی سیکٹ کے تحت مقدمے چلنے ہیں۔

اس کیس کو پاکستان کی عوام، فوج، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم تمام دیکھ رہے ہیں کہ کیا خدیجہ شاہ  اور جنرل سعد کے داماد عمران محبوب کے ساتھ  حکومت، پراسیکیوشن یا فوج کوئی رعایت تو نہیں برتے گی؟ کیس کمزور ہے یا مضبوط،  ان کو سزا ہو گی یا نہیں؟  فوجی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے حملہ آوروں سے امتیازی سلوک تو نہیں ہو گا؟ طاقتوروں کے ساتھ اور سلوک اور عام شہریوں کے ساتھ الگ سلوک۔

اس پر وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کی کلاس شروع کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ کیسز انہوں نے خود تو نہیں بنائے۔ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوئی چھوٹا موٹا کیس نہیں ہو اور ان تمام کیسز کی نگرانی تو بطورآئی جی آپ نے ہی کرنی ہے۔ ایک سپاہی کی کارکردگی کا بھی جواب تو آئی جی نے ہی دینا ہوتا ہے۔

اس کے بعد میٹنگ کینسل ہوگئی لیکن صرف وزیراعلٰی محسن نقوی کو بھیجا گیا باقی تمام کو وہاں روکا گیا۔ ویڈیو لنک پر متعلقہ اضلاع کے ڈی پی اوز کو اجلاس میں بلایا گیا۔ پنجاب میں احتجاج کے لیے تقریبا 26 ہزار لوگ باہر نکلے تھے جن میں سے 4 سے 7 ہزار تک لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ 26 ہزار لوگوں کا ڈیٹا جیو فینسنگ کے ذریعے سرکاری اداروں کے پاس رجسٹرڈہے۔ جس میں سے 471 وہ ہیں جن کی توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے واقعات میں  شناخت ہوئی ہے اور ان کے خلاف انسداد دہشتگردی کی عدالت میں چالان جائے گا۔ ان میں سے بھی صرف 41 ہیں جن کو ابھی تک فوج نےطلب کیا اور ان کی حوالگی مانگی ہے۔

آئی پنجاب نے تمام ڈی پی اورز کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اور کہا کہ یہ ریاست کی ساکھ  کا مسئلہ ہے اور تمما ڈیپی اوز کی کارکردگی اس معاملے پر تسلی بخش نہیں۔

یہ وہ تمام لوگ تھے جو اب بھی پس پردہ عمران خان کی حمایت اور سہولتکاری کر رہے ہیں لیکن ایسا زیادہ وقت تک نہیں چلے گا۔

عمران خان خود الجھن کا شکار ہیں اور  پاکستان کی انتظامیہ میں موجود بہت سے لوگ ان کی اس الجھن کا شکار ہوئے ہیں، اس خوش  فہمی میں ہیں کہ عاصم منیر کا تختہ الٹنے والا ہے۔عمران خان کو نہ حقائق کا پتا ہے نا فوجی تنظیم کا پتاہے۔ ان کی ابھی تسلی نہیں ہوئی اور وہ بڑے افسران سے احمقانہ کام کروائیں گے جن میں سول، پولیس اور انتظامیہ شامل ہو گی۔ 176 بڑے چھوٹے عہدوں پر مامور فوجی ہیں جن کو عمران خان صاحب کی وجہ سے کورٹ مارشل کی انکوائری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے