اسلام آباد: حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں کسانوں کے لیے آسان قرضوں اور تعمیراتی شعبے کی آمدن پر 10 فی صد رعایت کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی بجٹ 2023-24 میں درآمدی یوریا کھاد پرسبسڈی کے لیے 6 ارب روپے مختص کرنے اور کسانوں کے لیے قرضوں کا اعلان کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ درآمدی یوریا کھاد پر سبسڈی کے لیے اگلے سال 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیداواری میں صلاحیت میں اضافے کے لیے چھوٹے کسانوں کو کم مارک اپ پر صوبائی حکومتوں کی شراکت سے قرضہ جات فراہم کیے جائیں گے، اس مد میں 10 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ آئندہ 3 سال تک کنسٹرکشن اینٹرپرائز کی آمدنی پر 10 فیصد رعایت دی جائے گی۔ تعمیراتی شعبے سے 40 سے زائد صنعتیں جڑی ہوئی ہیں، آئندہ 3 سال تک کنسٹرکشن اینٹرپرائز کی آمدنی پر 10 فیصد رعایت دی جائے گی اور اس کا اطلاق یکم جولائی اور بعد میں شروع ہونے والے تعمیراتی منصوبوں پر ہوگا۔
