حکومتِ فلسطین نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے زیر قبضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہر جینن میں دو روز تک جاری رہنے والے حملوں میں سینکڑوں مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
فلسطینی کابینہ کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے حملوں کا نشانہ بننے والے جینن مہاجر کیمپ میں تعمیراتی امور کے دائرہ عمل میں حکومت کی جانب سے نقصانات کا تعین کرنے والی ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ کا جائزہ وزیراعظم محمد عشطیہ کی قیادت میں یکجا ہونے والی کمیٹی نے لیا ، جس کے مطابق حملوں کے نتیجے میں جنین میں 4 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں اور 25 عمارتوں کو معمولی اور بھاری سطح کا نقصان پہنچا ہے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جنین میں اسرائیل کے حملے میں 250 مکانات کے ساتھ ساتھ 150 سرکاری اور نجی تنصیبات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جبکہ جنین میں ایک مسجد میں بھی تخریب کاری ہوئی ہے۔
اعلان میں وزیر اعظم عشطیہ کے بیان کو بھی جگہ دی گئی ہے، اس کے مطابق "جینن شہر اور جینن مہاجر کیمپ کے شہریوں کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنے تمام تر امکانات کو بروئے کار لائیں گے۔ "
عشطیہ نے بتایا کہ اسرائیل کے معصوم انسانوں کا قتل کرنے، گرفتار کرنےاور نقل مکانی پر مجبور کرنے سمیت بنیادی ڈھانچے، مکانات اور سہولیات کی تباہی کا موجب بننے والے حملوں کے برخلاف علاقے کے عوام نے مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔
وزیر اعظم مزید کہا کہ انہوں نے ایک تکنیکی ٹیم تشکیل دی ہے تاکہ حملوں سے تباہ ہونے والے علاقے کے رہائشیوں کی فوری ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور تعمیر نو کے عمل کا جائزہ لیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ تکنیکی ٹیم اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے 3 جولائی کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین پر شروع کیے گئے اور تقریباً 48 گھنٹے تک جاری رہنے والے حملوں نے خطے میں وسیع پیمانے کی تباہ کاریاں کیں۔
حملوں میں 4 بچوں سمیت 12 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور تقریباً 120 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 20 کی حالت تشویشناک ہے۔
