وزیراعظم شہبازشریف نے جمعہ کے روز میانوالی میں بارہ سو میگاواٹ کے چشمہ فائیو ایٹمی بجلی گھر کا سنگ بنیاد رکھا ۔
وزیراعظم شہبازشریف نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور چین کے درمیان ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون کی تاریخ تیس سال پرانی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ماحول دوست،موثر اور مسابقتی لحاظ سے سستی توانائی کے فروغ کیلئے یہ باہمی تعاون ایک بڑی کامیابی ، عظیم دوستی کا مظہر اور دوسرے ملکوں کیلئے قابل تقلید ہے۔
شہبازشریف نے کہاکہ چشمہ فائیو ایٹمی بجلی گھر ساڑھے تین ارب ڈالر کی لاگت سے اگلے سات سال سے آٹھ سال میں مکمل کیاجائے گا تاہم انہوں نے بجلی گھر کی تنصیب کی اس مدت میں کمی لانے پر زوردیتے ہوئے کہاکہ یہ اقدام پاکستان کے عوام کیلئے بڑی حمایت ثابت ہوگا۔
چین ، سعودی عرب اور متحدہ امارات کی طرف سے حالیہ عرصے میں فراہم کی گئی امداد کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ حکومت کے تمام ارکان کی بطور ٹیم انتھک کوششوں سے دیوالیہ کا خطرہ مکمل طورپر ٹل گیا ہے ۔
چین کی سفارتخانے کی ناظم الامور PANG CHUNXUE نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ چشمہ فائیو ایٹمی بجلی سے مقامی افراد کیلئے روزگار کے دس ہزار سے زائد مواقع پیداہوںگے۔چائنہ نیشنل نیو کلیئر کارپوریشن کے چیئرمین نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ایٹمی توانائی کے شعبے میں ہمارا تعاون چین پاکستان کی سدا بہار تذویراتی شراکت داری کا اہم حصہ اور عالمی ایٹمی تعاون کی تابناک مثال ہے ۔
