نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ میںآرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف مقدمے کی سماعت بدھ کے روز شروع ہوگئی ہے ۔
بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اورسینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا ہے کہ جموں وکشمیر اسمبلی کی سفارش کے بغیربھارتی پارلیمنٹ کو اختیار ہی نہیں کہ وہ آرٹیکل 370 کو ختم کرے۔
جموں وکشمیر اسمبلی کی توثیق کے بغیر کوئی بھارتی قانون جموں وکشمیر میں نافذ نہیں ہو سکتا، بدھ کے روز بھارتی چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ میں مقدمے کی سماعت شروع ہونے پر مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمرعبداللہ اور کئی دوسرے کشمیری رہنما بھارتی سپریم کورٹ میں موجود رہے۔
بھارتی وکیل کپل سبل نےآرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کا دیگر ریاستوں کے برعکس ایک مخصوص انتظام کے تحت یونین اف انڈیا کے ساتھ الحاق ہوا تھا ۔
الحاق کی دستاویز کے مطابق بعض خاص محکموں جیسے دفاع، خارجہ اور موا صلات کے علاوہ ریاست کو اپنے قوانین بنانے کا اختیار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مفروضہ غلط ہے کہ ائین کی دفعہ 370 عارضی تھی بلکہ اس دفعہ کا اطلاق اس طریقے سے کیا گیا تھا کہ اس کی ہیئت ایک مستقل دفعہ کی سی ہوگئی تھی۔
قانون کے تحت بھارت کا کوئی بھی قانون تب تک جموں وکشمیر میں نافذ نہیں ہوسکتاجب تک کہ جموں وکشمیر اسمبلی اس کی توثیق نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ائین، اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ یہ خطہ بھارت کا حصہ ہے۔ اس لیے دفعہ 370 کی موجودگی سے بھارت اور جموں وکشمیر کے اس رشتے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
کپل سبل نے بتایا کہ جموں و کشمیر اور بھارت کے درمیان تعلق استوار کرنے کے لیے مختلف صدارتی فرمان جاری کیے گئے تھے، انہوں نے کہا کہ یونین اف انڈیا کو اختیار ہے کہ وہ جموں وکشمیر سے متعلق آئین کی کسی دفعہ میں ترمیم کرے لیکن اس کے لیے اہم ترین شرط یہ ہے کہ جموں وکشمیر کی ائین ساز اسمبلی کی توثیق ہو۔
ان کے مطابق آئین ساز اسمبلی 1951 سے 1957 تک موجود تھی اور اس دوران آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی کوشش نہیں ہوئی، اب چونکہ جموں وکشمیر اسمبلی موجود نہیں ہے، اس کی توثیق بھی حاصل نہیں کی جاسکتی، اس لیے بھارتی پارلیمنٹ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ آرٹیکل 370 کو ختم کرے یا اس میں ترمیم کرے۔انہوں نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان کی آئین کی سمجھ یہ ہے کہ انہوں نے آائینی تحفظ ہونے کے باوجود آرٹیکل 370 کو ختم کیا ۔
انہوں نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کو دن کے گیارہ بجے ترمیم کی گئی جس کے بارے میں کسی کو کوئی بھنک بھی نہیں تھی۔ کپل سبل کے دلائل کے دوران متعدد بار چیف جسٹس اور بنچ کے دیگر ارکان نے مداخلت کی اور سوالات پوچھے۔
چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے، بنچ میں جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گاوائی اور جسٹس سوریا کانت بھی شامل ہیں۔

