اگست کے پہلے ہفتے میں اقوام متحدہ بریسٹ فیڈنگ کے حوالے سے ہفتہ مناتی ہے تاکہ عوام میں شعور اجاگر کیاجایے کہ نومولود بچے کے لیے ماں کا دودھ کتنا اہم ہے۔ پیدائش کے بعد بچے کا ماں پر پہلا حق اسکا دودھ ہے۔ اس حوالے سے بڑے بزرگ تو بتاتے ہی تھے لیکن جدید سائنس اور طبی ماہرین بھی اس کی اہمیت پر زور دیتے ہیں کہ بچے کو ماں کا دودھ پلانا چاہیے یہ ایک مکمل غذا ہے۔
جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں وہ مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں.ان میں قوت مدافعت بھی زیادہ ہوتی ہےاور وہ صحت مند رہتے ہیں۔
بچے کی پیدائش کے بعد آدھے گھنٹے کے اندر بچے کو پہلی دودھ کی خوراک دیے دینی چاہیے.ابتدایی طور پر پر زردی مائل دودھ نکلتا ہے اس کو کولسٹرم کہتے ہیں.اس کو بلکل ضائع نہیں کرنا چاہیے.یہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے.پہلے چند ماہ صرف دودھ ہی بچے کے لئے کافی ہوتا ہےلیکن چھ ماہ کے بعد یہ روٹین بدل جاتی ہے اور دودھ کے ساتھ بچے کو ہلکی غذا شروع کروادی جاتی ہے۔
تمام ماوں کو یہ کوشش کرنی چاہیے وہ بچوں کو اپنا دودھ پلائیں ڈبے کا دودھ پینے والے بچے بار بار بدہضمی اور ڈائریا کا شکار ہوجاتے ہیں.کیونکہ تمام تر احتیاط کے باوجود پانی اور فیڈر کی وجہ سے جراثیم بچے کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں جو ان کو بیمار کرتے ہیں.اس کی نسبت ماں کا دودھ پینے والے بچے کم ہی انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں.دودھ پلانے والی خاتون میں چھاتی کے کینسر کا امکان بھی کم رہ جاتا ہے۔ بچہ اپنی تمام غذائیت ماں سے لیتا ہے اس لئے ماں کو اپنی خوراک بہت اچھی رکھنی چاہیے۔ صحت مند ماں کا بچہ ہی صحت مند رہ سکتا ہے۔
بچے کو دو سال تک دودھ پلانا بہترین ہے بچہ صحت مند بھی ہوگا اور بہت سی بیماریوں سے بھی محفوظ رہے گا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق بچے کو چھ ماہ تو ماں کا دودھ لازمی طور پر پلایا جائے.تاہم پاکستان میں بوتل سے دودھ پلانے کا رواج زیادہ ہے اور بریسٹ فیڈنگ کم ہے.اس کو فیشن کہیں رواج یا گھر والوں کا عدم تعاون کہ بہت سی خواتین بچوں کو فیڈر لگا دیتی ہیں..نا ہی خواتین کو اس کی افادیت کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے نا ہی انہیں ایسا ماحول دیا جاتا ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلاسکیں.بیشتر خواتین ملازمت پیشہ ہیں انہیں ایسی کوئی سہولت نہیں دی جاتی کہ وہ اپنا شیر خوار بچہ دوران ملازمت ساتھ رکھ سکیں.اس وجہ سے مائیں اپنے بچوں کو فارمولا ملک اور فوڈ شروع کروادیتی ہیں
اگر ہم صحت مند ماں اور صحت بچے کی بنیاد پر معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس قدرتی نظام کو عام کرنے کے لیے بات کرنا ہوگی.بچے اگر اپنی ماں کا دودھ پئیں گے تو وہ صحت مند ہو گے۔ اس حوالے سے بات کریں اور خواتین کو ورک پلیس پر نرسری کی سہولت دیں تاکہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلاسکیں اور اس کی موثر دیکھ بھال کرسکیں۔ ماں کا دودھ اللہ کی طرف سے نومولود کے لئے تحفہ ہے اس کے ساتھ یہ خواتین کو بھی کینسر سے محفوظ رکھتا ہے اس پر بات کریں اور اس حوالے سے رائے عامہ قائم کریں۔ منہگائی کے دور میں فارمولا ملک ہر کوئی ویسے بھی افورڈ نہیں کرپاتا۔ نئ ماوں کو ماں کے دودھ کے بارے میں بتایا جائے اور ان کہا جائے کہ وہ اپنے بچے کو صرف یہ ہی دیں تاکہ خود بھی صحت مند رہیں اور بچے بھی صحت مند رہیں۔
