اسلام آباد: قومی اسمبلی نے مسلسل تیسرے دن مزید بلز پاس کرلیے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق قومی اسمبلی نے جمعرات کے روز 8 8 بل پاس کرلیے۔ ضمنی ایجنڈے کے تحت مزید ایک تعلیمی ادارے کے قیام کا بل بھی منظور کرلیا گیا جب کہ مزید نجی یونیورسٹیوں کے بل پاس کرنے پر مولانا عبدالاکبر چترالی نے کورم کی نشاندہی کردی کہ جس کی وجہ سے مزید 2 نجی یونیورسٹیوں کے بل پاس نہ ہوسکے ۔کورم کی نشاندہی پر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی جمعہ 11بجے تک ملتوی کردی۔
جمعرات کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس 2 گھنٹے 10مننٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ وزرا کی عدم موجودگی کی وجہ سے وقفہ سوالات کو موخر کر دیا گیا ۔ اجلاس میں وزیر پارلیمانی آمور مرتضیٰ جاوید عباسی نے وزیر ہوابازی سعدرفیق کی طرف سے پاکستان شہری ہوابازی بل 2023ایوان میں پیش کیا جس کے بعد قومی اسمبلی نے بل کو منظور کرلیا۔
وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے نیشنل لاجسٹک کارپوریشن بل 2023ایوان میں پیش کیا جو کو قومی اسمبلی نے منظور کرلیا ۔وزیر مملکت حناربانی کھر نے نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررازم اتھارٹی بل 2023ایوان میں پیش کیا جس کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔
مولانا عبدالاکبر چترالی نے وزارت داخلہ کے بل پیش کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے اسلحہ لائسنس نہیں بن رہے اگر یہ بل پیش کریں گے تو میں کورم کی نشاندہی کروں گا جس پر اسپیکر نے بل مؤخرکردیا ۔
وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا پیشہ وروں کے تحفظ کا ترمیمی بل 2023پیش کیا بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔علاوہ ازیں پریس اخبارات نیوز ایجنسیز اور کتب رجسٹریشن ترمیمی بل 2023پیش کیا گیا، جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
وزیر بین الصوبائی رابطہ احسان الرحمٰن مزاری نے گن اینڈ کنڑی کلب بل 2023ایوان میں پیش کیا جس کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔ضمنی ایجنڈا میں وزیر پارلیمانی امور نے وزیر ہوابازی کی طرف سے سینیٹ سے ترمیم کے ساتھ پاس ہونے والے پاکستان ائیر سیفٹی انویسٹی گیشن بل 2023 ایوان میں پیش کیا ۔ بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔
مرتضیٰ جاوید عباسی نے تحریک پیش کی کہ ایجنڈا معطل کرکے پرائیویٹ ممبر بل پیش کرنے کی اجازت دی جائے ۔مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہاکہ یہ تعلیم کا مافیا ہے اسلام آباد میں کتنی یونیورسٹیوں کو بنائیں گے یہ لوگوں کو لوٹ رہے ہیں ۔دھڑا دھڑ یونیورسٹیاں بنارہے ہیں ۔پیسے لے کر یونیورسٹیاں بنائی جارہی ہیں، تھوک ریٹ پر یونیورسٹیاں بنائی جارہی ہیں۔ ایک ممبر 10 یونیورسٹیاں بنارہاہے۔ کیا یہ ٹھیکدار ہیں؟
اسپیکر نے کہاکہ ہم نے شرط لگادی ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی شرائط کے بغیر یہ یونیورسٹی نہیں بن سکتی ہے۔ رکن ارمغان سبحانی نے انسٹیٹیوٹ آف گجرات بل 2023ایوان میں پیش کیا اور کہاکہ میں جھوٹ بولنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں، ہم نے کوئی پیسے نہیں لیے ہیں۔انسٹیٹیوٹ آف گجرات بل 2023ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے بھی یونیورسٹیوں کے بل دھڑا دھڑ منظور کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کہتے ہیں پہلے یونیورسٹی کی اپروول ہو، پھر چارٹر کی منظوری لی جائے۔ہمارا موقف ہے کہ جب ان کا چارٹر منظور ہو جاتا ہے تو انہیں لیگل کور مل جاتا ہے۔قانون منظور ہونے پر وہ ایچ ای سی کی منظوری کے بغیر بھی یونیورسٹی قائم کر لیتے ہیں، چارٹر ملنے کے بعد یونیورسٹیاں ڈگری جاری کر سکتی ہیں۔
ان یونیورسٹیوں کی ڈگریوں پر پھر اعتراضات اٹھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس این او سی نہیں ہوتا۔ان یونیورسٹیوں کی ڈگریاں ایچ ای سی کے پاس تصدیق کے لیے پہنچتی ہیں تو وہ تصدیق نہیں کرتا۔ اس طرح والدین اور طلبہ پریشان ہوتے ہیں۔والدین بہت مشکل سے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔یہاں میں نے دیکھا ہے کہ چھ چھ ہزار طلبا کے جلوس نکلے ہیں، مجھے بتایا گیا ہے کہ 10 ہزار ایسے طلبا کو ڈگریاں دی گئیں جن کی اب تصدیق نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی کہتا ہے کہ یونیورسٹیاں پہلے این او سی اور دیگر منظوریوں کا معاملہ حل کریں۔مجھے پتا ہے کہ طلبہ سے مجھے کتنی گالیاں پڑتی ہیں اور وہ مجھے کتنی باتیں سناتے ہیں۔کل ان یونیورسٹیوں کے طلبہ کی ڈگریوں کا بھی مسئلہ بنے گا۔قومی اسمبلی یونیورسٹیوں کے بل پاس کر رہی ہے مگر سینٹ اس کی منظوری نہیں دے رہا۔ایوان بالا کا مؤقف ہے کہ پہلے ضروری منظوریاں حاصل کی جائیں۔ یونیورسٹی ہونی چاہیے مگر تعلیمی اداروں میں کوالٹی کی تعلیم ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم تب ہی ہو سکتی ہے جب یہ یونیورسٹیاں تمام ضروری لوازمات پوری کریں۔ایسا نہ ہو کہ ایک کمرے میں یونیورسٹی بن جائے اور طلبا مشکلات کا شکار ہوں۔مناسب ہے کہ بل اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجے جائیں جہاں وہ ایچ ای سی سے فارملٹی پوری کر لیں۔سب جگہ یہ بات ہو رہی ہے کہ قومی اسمبلی نے 4 دن میں 54 بل پاس کر لیے ہیں۔

