اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کے لیے 23 سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ کردیے۔
الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعتوں کو آئندہ عام انتخابات کے لیے نشان الاٹ کرنے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ رکن کمیشن نثار درانی کی زیرصدارت 4 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
دوران سماعت ای سی پی نے پیپلز پارٹی کو تلوار کا نشان دے دیا جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے شاہین کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کو چڑیا کا انتخابی نشان تجویز کر دیا۔
الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی اور آل پاکستان مسلم لیگ کی درخواست پر فیصلہ روکتے ہوئے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی نے شاہین کا نشان مانگا جو پہلے سے آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے پاس ہے۔الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی کی تاحال رجسٹریشن زیر التوا ہے، استحکام پاکستان پارٹی متعلقہ دستاویزات فراہم کرے۔
دریں اثنا الیکشن کمیشن نے جمعیت علما اسلام (ف) کو کتاب، پیپلز مسلم لیگ کو کپ، رابطہ جمعیت اسلام کو انگوٹھی، کسان اتحاد کو بالٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کو چاند جب کہ پاکستان عوامی لیگ کو ہاکی کے انتخابی نشان الاٹ کر دیا گیا۔
پاکستان تحریک انسانیت کو چاقو، پاکستان امن تحریک کو میزائل، تحریک تحفظ پاکستان کو پستول، پاکستان پیپلز پارٹی بھٹو شہید کو وکٹری، پاکستان فلاحی تحریک کو واسکٹ، جے یو آئی نظریاتی کو تختی، جدید عوامی پارٹی کو ہیلمٹ اور تحریک عوام پاکستان کو ٹیلیفون کا نشان الاٹ کر دیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے آل پاکستان مسلم لیگ کے شاہین کے نشان کو انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد سے مشروط کر دیا جس پر پارٹی نے 40 روز کے اندر انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔

