آج کے ترکیہ کےاہم اخبارات کی اہم خبروں کے ساتھ حاضر خدمت ہیں۔
***روزنامہ خبر ترک : "ایردوان کا پوتن سے ٹیلی فونک رابطہ”
صدر رجب طیب ایردوان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نےصدر پوتن کے دورہ ترکیہ پر اتفاق کیا ہے۔ ایردوان نے زور دے کر کہا کہ بحیرہ اسود کا اقدام، جسے وہ "امن کا پل” سمجھتے ہیں، طویل عرصے سے غیر فعال رہنے سے کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
***روزنامہ حریت: "امریکی میڈیا : ایک نئی دنیا تشکیل پا رہی ہے”
امریکہ کے سب سے بڑے نشریاتی ادارے Cnbc نے کہا کہ مغرب کے برعکس، صدرایردوان اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ستمبر میں روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں بڑا اہم کردارا ادا کیا تھا جس سے ظانئی دنیا تشکیل پانے کی جانب واضع اشارات ملتے ہیں۔
***روزنامہ وطن: ” ڈزنی کے اتاترک ڈرامہ سیریز کے بارے میں مکروہ فیصلے پر ردعمل”
جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کے نائب چیئرمین اور پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے امریکہ میں قائم ٹی وی سیریز/فلم پلیٹ فارم ڈزنی کی طرف سے "اتاترک” سیریز کی منسوخی پر ردعمل کا اظہار کیا۔ چیلک نے کہاہے کہ اس سے مغربی ممالک کی ڈیموکریسی کے بحران کی واضح عکاسی ہوتی ہے۔
***روزنامہ ینی شفق : "گلوبل ٹریولر میگزین کی جانب سے استنبول ایئرپورٹ کے لیے 2 ایوارڈز”
استنبول ہوائی اڈے کو امریکہ کے ٹریول میگزین گلوبل ٹریولر کی طرف سے لگاتار دوسری بار ‘بہترین ٹرنزٹ ہوائی اڈے’ اور ‘بہترین فیملی فرینڈلی بین الاقوامی ہوائی اڈے’ کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ بین الاقوامی ایوی ایشن ریٹنگ ایجنسی Skytrax کی طرف سے استنبول ایئرپورٹ کو ‘دنیا کا بہترین ہوائی اڈہ’ اور ‘دنیا کا سب سے زیادہ خاندانی دوستانہ ہوائی اڈہ’ کے طور پر منتخب کیا گیا، اور اسے ‘جنوبی یورپ کا بہترین ہوائی اڈہ’ بھی قرار دیا گیا۔
***روزنامہ صباح: "برطانویرکنِ پارلیمنٹ : شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کو ایک آزاد ریاست کیوں نہیں بنادیا جاتا؟”
برطانیہ میں ڈیموکریٹک یونین پارٹی (DUP) کے رکنِ پارلیمنٹ سیمی ولسن نے کہا کہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی ہے۔ انہوں نے فوری طور پر شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی حمایت کی ہے۔
