ٹیکساس : ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے امریکی جیل میں اپنی مؤکلہ سے ملاقات کی، انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کو ملاقات کے دوران افسردہ پایا۔
کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے کہا میں نے آج ڈاکٹر عافیہ سے تین گھنٹے تک ملاقات کی اور کل مزید تین گھنٹے کی ملاقات متوقع ہے۔ کلائیو اسمتھ نے ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے بعد فوری طور پر ٹیکساس ، امریکا سے عافیہ موومنٹ سیکریٹریٹ کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ڈاکٹر عافیہ کے وکیل نے کہاکہ ایف ایم سی ، کارزویل جیل کے عملہ کا رویہ آج غیر معمولی طور پر مخالفانہ تھا۔ جیل حکام نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی 20 سالوں میں دوسری بار ملنے کے لیے آنے کی میری درخواست کو پہلے ہی مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے وفاقی وزیر سینیٹر طلحہ محمود کو بھی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا جن کو ڈاکٹر فوزیہ کے ہمراہ ڈاکٹر عافیہ سے ملنے امریکا آنا تھا۔”
انہوں نے کہاکہ جیل حکام نے دو مسلمان ڈاکٹروں سے عافیہ کا آزادانہ طبی معائنہ کرانے کی میری درخواست کو بھی مسترد کر دیا ہے، یہ جیل بالکل ہی غیرمعقول ہے ، ایسا لگتا ہے کہ ہمیں عافیہ کو اس کے حقوق دلانے کے لیے جیل حکام پر مقدمہ کرنا پڑے گا۔ اگرچہ عافیہ(جیل میں نہیں بلکہ) ایک جہنم میں موجود ہے مگر عافیہ نے بڑی ہمت اور لچک کا مظاہرہ جاری رکھا ہوا ہے۔
کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے کہا کہ عافیہ نے ملاقات کے دوران گوانتانامو کے قیدیوں کی طرز کا اورنج جمپ سوٹ اور سر پر سفید اسکارف پہنا ہوا تھا۔ اسے” انتظامی علیحدگی یونٹ” میں قید رکھا گیا ہے، جو کہ امریکی خواتین کی جیلوں میں کسی قیدی کے ساتھ ”سخت ترین سلوک” کے لیے مخصوص ہے جن میں 10,250 میں صرف 25 خواتین قیدیوں کو رکھا گیا ہے(جن میں سے ایک عافیہ ہے)۔
کلائیو اسمتھ نے کہا کہ اس کے باوجود،عافیہ اور میری ملاقات انتہائی تعمیری اور خوشگوار تھی، ہم نے زیادہ تر وقت ان مختلف جنسی حملوں اور دیگر زیادتیوں کے بارے میں بات کی جن کا وہ پچھلے 15 سالوں میں نشانہ بنتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگرچہ عافیہ کے لیے اس موضوع پر بات کرنا مشکل تھا، لیکن اگر ہم تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کرنے کی ضرورت کو سمجھتی ہیں۔عافیہ نے بتایا کہ اس نے اس کے ساتھ بدسلوکیاں کرنے والوں کو معاف کردیاجبکہ انہوں نے معافی مانگی بھی نہیں تھی۔

