لاہور: پنجاب میں نئی گاڑیوں کی خریداری سے متعلق سرکاری وکیل نے عدالت میں جواب جمع کروایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نئی گاڑیوں کی منظوری سرکاری امور کی بہتر انجام دہی کیلیے دی گئی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنرز سمیت دیگر افسران کو نئی گاڑیاں دینے کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ میں ہوئی، جس میں عدالتی حکم پر محکمہ بورڈ آف ریونیو نے جواب عدالت میں جمع کروادیا۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری افسران کیلیے نئی گاڑیوں کیخلاف درخواست پر حکومت پنجاب سے رپورٹ طلب
سرکاری وکیل نے جمع کروائے گئے جواب میں عدالت کو بتایا کہ افسران کے زیر استعمال گاڑیاں پرانی اور کھٹارا ہیں ، جن کی مرمت پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔ افسران کوسرکاری امور کی بہتر انجام دہی کے لیے نئی گاڑیوں کی منظوری دی۔ افسران کی نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے 2 ارب 34 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی۔
جسٹس سلطان تنویر احمد نے شہری شیراز الطاف سمیت دیگر کی درخواستوں پر افسران کیلیے نئی گاڑیوں کے نوٹیفکیشن کے کیس میں سرکاری وکیل کے جواب کی کاپیاں درخواست گزاروں کو دینے کی ہدایت کردی۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں 200 اعلیٰ افسران کیلیے 2 ارب روپے کی گاڑیاں خریدنے کی منظوری
واضح رہے کہ درخواستوں میں افسران کو نئی گاڑیاں دینے کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا ہے۔
