صدر رجب طیب ایردوان نے زور دے کر کہا ہے فوجی مداخلت ہونے والے نائجر میں تاحال کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔
"ہم فی الحال اس بات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ ہم یہاں اپنی وزارت خارجہ کے ساتھ اپنا کلیدی کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں۔”
صدر ایردوان نے ہنگری ریاست کے یوم تاسیس کی تقریبات اور عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے بدھاپست کے دورے سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے ۔
26 جولائی کو فوجی مداخلت ہونے والے نائجر میں پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے جناب ایردوان نے کہا:
"نائیجر میں تا حال کوئی حل نہیں نکل سکا ۔ ہم فی الحال اس بات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ ہم یہاں اپنی وزارت خارجہ کے ساتھ اپنا کلیدی کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں، ہمیں نائجر میں بھی کوئی حل تلاش کرنا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ دوست اور برادر ملک نائجر جلد از جلد ایک آئینی نظام اور جمہوری انتظامیہ سے ہمکنار ہو گا۔”
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری ایکو واس کا نائجر میں مداخلت کا فیصلے ایک درست فعل نہیں ہے، ایردوان نے کہا،اس فیصلے کے بعد مالی اور برکینا فاسو نے بھی خبردار کیا کہ نائجر میں اس طرح کی فوجی مداخلت ان کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ نائجر میں فوجی مداخلت کا مطلب بہت سے افریقی ممالک میں عدم استحکام پھیلانا ہوگا۔
قلیل ترین مدت میں نائجر میں سماجی امن و استحکام کی بحالی کی تمنا کا اظہار کرنے والے جناب ایردوان نے کہا کہ "مجھے یقین ہے کہ نائجر عوام جمہوری نظام کی پاسداری کرتے ہوئے قلیل مدت میں انتخابات کی جانب جائینگے۔ ترکیہ ایک دوست اور برادر ملک کی حیثیت سے نائجر عوام کے شانہ بشانہ ہونے کے عمل کو جاری رکھے گا۔ "
