جاپان کے وزیر اعظم کیشیدہ فومیو نے کہا ہے کہ نے کہا ہے کہ فوکوشیما ڈائیچی جوہری پاور پلانٹ میں جمع ریڈیو ایکٹیو پانی کے سمندر میں نکاس کا حتمی فیصلہ حفاظتی تدابیر کی تصدیق کے بعد کیا جائے گا۔
کویوڈو خبرایجنسی کے مطابق جاپان کے وزیر اعظم کیشیدہ نے ڈائیچی جوہری پاور پلانٹ کا دورہ کیا اور بیانات جاری کئے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ پلانٹ میں جمع ریڈیو ایکٹیو پانی کی سمندر میں نکاسی سے قبل حفاظتی تدابیر کو ترجیح دی جائے۔ نکاسی پلان کے بارے میں حتمی فیصلہ حفاظتی تدابیر کی طرف سے مطمئن ہونے اور ان کی صحت کی تصدیق ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ علاوہ ازیں پاور پلانٹ تنصیبات پر اس کے منفی اثرات کے سدّباب کے لئے بھی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔
کیشیدہ نے اس بارے میں تو کوئی معلومات فراہم نہیں کیں کہ آلودہ پانی کی نکاسی کب شروع ہو گی لیکن یہ ضرور کہا ہے کہ حتمی فیصلے کے لئے 22 اگست کو کابینہ مذاکرات کئے جائیں گے۔
بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی کی 4 جولائی کو شائع کردہ رپورٹ میں فوکوشیما ڈائیچی جوہری پاور پلانٹ کے آلودہ پانی کی سمندر میں نکاسی کے پلان کو سکیورٹی معیاروں سے ہم آہنگ قرار دیا گیا تھا۔
جاپان نےسرکاری سطح پر پلان کے آغاز کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی لیکن رواں سال موسم گرما میں نکاسی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جاپان کے ہمسایہ ممالک چین، جنوبی کوریا اور تائیوان نے ٹوکیو حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا تھا۔
واضح رہے کہ مارچ 2011 کو 9 کی شدت کے زلزلے اور سونامی نے فوکوشیما ڈائچی جوہری پاور پلانٹ کو نقصان پہنچایا تھا۔ پلانٹ سے ہوا میں ملنے والے ریڈیو ایکٹیو کی وجہ سے پلانٹ کے اطراف کو خالی کرنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
