کراچی: اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے وائس چانسلر داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کے رویے پر ڈاکٹر ثمرین سے معذرت کرنے کی اپیل کی ہے بصورت دیگر شہر میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وائس چانسلر جامعہ داؤد کی وائرل ہونے والی ویڈیو اور ان کے رویے پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان پروفیشنل زون وقاص رفیق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد میں 12 سرکاری اور 39 نجی جامعات ہیں، جس میں سے کوئی ایک بھی جامعات کی عالمی رینکنگ میں نہیں آتی اس کی بہت ساری وجوہات ہیں، لیکن ایک وجہ جامعات میں پیپلزپارٹی کا سیاسی اثرو اسوخ ہے جو جامعات میں وائس چانسلر سمیت ہر سطح پر اپنے لوگ بھرتی کرواتی ہے۔
وقاص رفیق نے کہاکہ اسلامی جمعیت طلبہ نے 27 اگست بروز اتوار کو داؤد یونیورسٹی میں داخلے کے لئے آنے والے طلبہ کی رہنمائی کے لئے شہری انتظامیہ کی اجازت سے رہنمائی کیمپ لگایا، جس پر جامعہ داؤد کی وائس چانسلر نے آکر وہاں موجود اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان جو کہ جامعہ داؤد کے طالبعلم بھی ہے ان سے انتہائی بدتمیزی کی انہیں حراساں کیا۔https://www.facebook.com/azmatnama/videos/819593543152812
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان پروفیشنل زون کا کہنا تھا کہ اسلامی جمعیت طلبہ جو پاکستان میں طلبہ کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم ہے کہ خلاف انتہائی نامناسب القابات ادا کئے اور ساتھ ہی وہاں طلبہ و طالبات کی رہنمائی کے لئے موجود پمفلیٹ کو پھاڑا ، یہ سارا منظر کیمرے میں ریکارڈ ہوا اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر وہ ویڈیو وائرل بھی ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ ان کے اس عمل سے اساتذہ کے رتبے اور وائس چانسلر جیسے عظیم اور مقدس مرتبہ کی توہین ہوئی ساتھ ہی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ان کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے تمام تر بدتمیزی کے بعد بھی اپنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا۔
وقاص رفیق نے کہاکہ ڈاکٹر ثمرین نے نہ اپنے استاد ہونے کو ملحوظ خاطر رکھا اور نہ ہی وائس چانسلر ہونے کا خیال رکھا ، کارکنان نے ان کی ایک استاد ، وائس چانسلر اور خاتون ہونے کے تقدس کا خیال کیا اور ان سے کوئی بدتمیزی نہیں کی لہٰذا اب اگر تین یوم کے اندر وائس چانسلر داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی نے اپنے اس قبیح اور نامناسب عمل پر معذرت نہ کی تو اسلامی جمعیت طلبہ پہلے مرحلے میں پورے شہر میں اور بعدازاں وزیر اعلی ہاؤس اور گورنر ہاؤس پر مظاہرہ کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ساتھ ہی ہم یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں موجودہ وائس چانسلر کو جلد از جلد ان کے عہدے سے برطرف کیا جائے تاکہ طلبہ و طالبات مزید اذیت سے بچ سکیں۔

