کراچی: حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال اور مہنگائی پر شدید پریشانی اور تشویش کا اظہار کیا گیا
حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی شوری نے اس ضمن میں منظور کی گئی گئی قرارداد میں شدید پریشانی اور تشویش کا اظہار کیا کہ اس وقت ہماری ملکی آبادی کا 40 فیصد سے زائد حصہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگاری اور مفلسی کا شکار ہے۔
مرکزی شوری ٰ اراکین کا کہنا تھاکہ ضروریات زندگی کی تمام اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ ادارہ شماریات نے ماہانہ مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کیے مطابق ایک ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح میں 4.32 فیصد مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح 31.55 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے ۔آئی ایم ایف سے لئے گئے حالیہ 260 ارب روپے کے گردشی قرضے کم کرنے کے لیے بجلی کے صارفین پر 3.82 روپے فی یونٹ سرچارج عائد کر دیا گیا۔
نمائندہ اجلاس میں شرکاء کاکہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کیے گئے ہیں. آئی ایم ایف کے مطالبات کا سارا زور بالواسطہ ٹیکسوں اور غریب عوام پر بوجھ ڈالنے کے لیے ہے۔28 اپریل 2022 کو وفاقی شرعی عدالت نے سود کی ہر قسم کو حرام قرار دیتے ہوئے حکومت کو سودی معیشت سے نجات کے لیے واضح ہدف دیا تھا لیکن ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت نے سود کے خاتمے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا بلکہ بیرونی قرضوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کا اس نمائندہ اجلاس میں حکومت اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات میں تمام اضافہ واپس لے کر قیمتوں میں 40 فیصد تک کمی کی جائے۔

