پاکستان ائیرفورس پروفیشنلزم میں اپنا مقام رکھتی ہے. پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیا ائیرفورس کے شاہینوں نے وہ بہادری دکھائی کہ تاریخ ان پر نازاں ہوئی۔ ماضی ہو یا حال شاہین اس آنکھ کو نوچ ڈالتے ہیں جو پاکستان کی طرف میلی نظر سے دیکھے. ہم سب نے ستائیس فروری 2019 میں یہ بات اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لی کہ گھر میں گھس کر مارنا کس کو کہتے ہیں شاہینوں نے ہندوستان کو انکے گھر میں گھس مارا اور یہ میسج دیا کہ واپس ایسی حرکت مت کرنا جس سے دو ایٹمی ممالک مدمقابل آجائیں۔ ہندوستان کے طیارے تباہ ہوئے اور ان کا پائلٹ ابھی نندن گرفتار ہوا۔ اس کے بعد سے ہندوستان نے جرات نہیں کی کہ وہ پاکستان کی طرف دیکھیں۔
اگر ہم 1965 کے اوراق کی طرف جائیں تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہندوستان کی نقل و حرکت کی وجہ سے پاکستان فضائیہ جنگ کے لئے بلکل تیار تھی۔ اس وقت پاک فضائیہ کی کمان تاریخ ساز پائلٹ ائیر مارشل نورخان کے پاس تھی۔رن آف کچھ کی لڑائی میں بھارت اور پاکستان کی باڈر سیکورٹی مدمقابل آئیں اور باقاعدہ لڑائی شروع ہوگئ نورخان حالات کو پہلے ہی بھانپ چکے تھے انہوں نے فوری طور پر سئبیرایف 86 ایف ، ٹی 33 اور ایف 102، 25 بی 58 بومبر طیاروں کی استعداد کار پر توجہ دی۔ پاک فضائیہ کی ایک ورکشاپ 1960 میں پشاور میں چوبیس گھنٹے کی طیاروں کی مینٹیس کے لئے کام کررہی تھی پاک فضائیہ کے شاہین ان فوجی تنصیبات اور پاک فوج کے قافلوں کی براہ راست نگرانی کرتے جو جنگ کا حصہ تھا۔
۔پاکستان کے پاس 145 جنگی جہاز تھے اور ہندوستان کے پاس 775 طیارے تھے۔جن میں ہنٹر نیٹ وئمپائر شامل تھےتاہم پاک فضائیہ نے کم وسائل کے باوجود بری اور بحری فوج کی تنصیبات اور عوام کی حفاظت کی۔
۔اس جنگ کے غازیوں کی بات کریں تو ائیر مارشل نور خان نے خود محاذ پر جنگ لڑی،۔ائیر مارشل انور شمیم،ائیرمارشل عظیم داود پوتا، ائیر وائس مارشل ایریک گورڈن ، ائیر کموڈور محمد ظفر، گروپ کیپٹن افتخار احمد ، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری ،ونگ کمانڈر یوسف خان، ،فلائٹ لفٹینٹ ضیاالدین ،سکواڈرن لیڈر محمد اشفاق اور 42 افسران کو ان کی بہادری پر تمغے دئے گئے۔ پائلٹ ایم ایم عالم نے فضائی ریکارڈ کیا اور دشمن کے دانت کھٹے کردئے۔
اس ضمن پاک فضائیہ کے اسکواڈرن نمبر 19 کا کردار بہت اہم رہا۔ 1965 کی جنگ میں اس اسکواڈرن نے جس کی قیادت سجاد حیدر کررہے تھے لاہور پر بھارتی ائیرفورس کے حملے کو ناکام بنایا اور انکو پیش قدمی سے روک دیا ۔اسکواڈرن نمبر ۱۹ پاک فضائیہ کا فائٹر اسکواڈرن ہے۔
اس اسکواڈرن کا قیام یکم فروری 1958 کو ماڑی پور میں عمل میں لایا گیا اس وقت اسکا حصہ ایف 86 طیارے تھے۔1963 میں اس کی کمانڈ اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کو دی گئ وہ پاک فضائیہ کے ماہر پائلٹس میں سے ایک تھے۔1964 میں اس اسکواڈرن کو پشاور منتقل کردیا گیا اور اس میں سعد حاتمی اور مسعود حاتمی جیسے ماہرپائلٹس بھی شامل ہوگئے۔ اس اسکواڈرن نے نا صرف لاہور کی حفاظت کی بلکے ہندوستان کی پٹھان کوٹ ائیر بیس کو تباہ کرڈالا ۔1965 کے ہیرو سجاد حیدر اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں اور نئے پائلٹس کے لئے مشعل راہ ہیں کہ کس طرح کورڈینشن کے ساتھ حملہ کرکے دشمن کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کی سوانح عمری شاہین کی پرواز میں بہت سے حقائق درج ہیں اس کا مطالعہ ضرور کریں۔ مجھے ان سے ملاقات کی شرف بھی حاصل ہوا۔ وہ ائیر فورس کی تاریخ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور بہت سی معلومات کا خزانہ انکے پاس موجود ہے۔
اگر 1965کی جنگ کے شہدا کا ذکر کریں تو 1965 کے معرکے میں سکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی ،اسکوڈارن لیڈر محمد اقبال ،سکواڈرن لیڈر علاو الدین، اسکواڈرن لیڈر امتیاز بھٹی، اسکواڈرن لیڈر منیر دین احمد،فلائٹ لفٹینٹ یونس حسین،فلائٹ لفٹینٹ سیف اللہ خان ،ایل اے سی ایم انور حیسن نے جام شہادت نوش کیا۔
سرگودھا جوکہ شاہینوں کا مسکن تھا انہوں نے چھمب میں کاروائی کا آغاز بارہ طیاروں کی فارمیشن سے کیا ۔تین ستمبر کو چھے نیٹ طیاروں کا مقابلہ دو ایف ۸۶ سے ہوا فلائٹ لیفٹنٹ یوسف نے ڈیڑھ منٹ اکیلے مقاملہ بعد میں انکے ونگ مین بھی آگئے۔جس وقت ایف 104 مدد کے لئے آیا تودشمن کے اوسان خطا ہوگئے۔فلائٹ لفٹینٹ حکیم اللہ درانی جو بعد میں پاک فضائیہ کے سربراہ بھی بنے۔وہ بھی 1965 میں فضائی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے انہوں نے فضا میں بھارتی طیارہ دیکھا اور دشمن کے طیارہ کو پسرور اترنے پر مجبورہوگیا۔حکیم اللہ اس وقت فائڑ جیٹ ایف ۱۰۴ اڑا رہے تھے اور فلائٹ لفٹینٹ برج پال سنگھ سکند نیٹ طیارہ اڑا رہے تھے۔برج پال کو جنگی قیدی بنالیا گیا اور ان سے تفتیش کی گئ بعد ازاں انہیں چھوڑ دیا گیا۔برج پال کے طیارے کو فلائٹ لفٹینٹ سعد حاتمی اڑا کر سرگودھا اور پشاور لے کر گئے کیونکہ انکو نیٹ جہاز اڑانے کا تجربہ تھا بھارتی طیارہ اس وقت کراچی کے میوزیم میں وار ٹرافی کے طور پرموجود ہے۔ائیر چیف مارشل حکیم اللہ خان ماشااللہ حیات ہیں اور اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔
1965 کی جنگ میں ائیر چیف پائلٹس انجنیرز اور دیگر زمینی عملے نے مل کر ہر روز کام کیا۔پاک فضائیہ کی طرف سے حملہ اتنا شدید تھا کہ بھارتی فوجی چلتی گاڑیوں سے اترگئے تاکہ جان بچاسکیں۔ جنرل نرنجن پرساد بھی اپنی گاڑی اور سامان چھوڑ کر پیدل جان بچانے بھاگے انکی گاڑی نیول ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں وار ٹرافی کے طور پر کھڑی ہے۔ سات ستمبر کو ان تمام غازیوں اور شہدا کو سلام جنہوں نے وطن کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا ۔ یہ سب ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔
